Jang News:
2026-07-24@08:37:31 GMT

زرتاج گل کی 11 اگست تک حفاظتی ضمانت منظور

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

زرتاج گل کی 11 اگست تک حفاظتی ضمانت منظور

—فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی کی رہنما زرتاج گل کو 11 اگست تک حفاظتی ضمانت دے دی۔

پشاور ہائی کورٹ نے زرتاج گل کو1 لاکھ اور 2 نفری ضمانتی مچلکوں پر حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو 11 اگست تک گرفتار نہ کیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ زرتاج گل کو اے ٹی سی فیصل آباد نے 10 سال کی سزا سنائی ہے، وکیل کے مطابق درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنا چاہتی ہیں، اے ٹی سی نے درخواست گزار کی غیرموجودگی میں سزا سنائی ہے۔

تحریک انصاف کیلئے 9 مئی کے بعد کوئی دن آسان نہیں: زرتاج گل

زرتاج گل نے کہا کہ سوال کرنا کارکنان کا حق ہے، تحریک انصاف خاندانی پارٹی نہیں، بانی پی ٹی آئی ہی فیصلہ کریں گے

پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار سزا یافتہ ہے، حفاظتی ضمانت کی حقدار نہیں،  یہ طے شدہ قانون ہے کہ انصاف تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، آئین کے تحت ملزم کو شفاف ٹرائل اور اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے عدالت کے سامنے سرنڈر کیا ہے، ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کا موقع دیا جائے، درخواست گزار کو لاہور ہائی کورٹ میں سرنڈر ہونے تک گرفتار نہ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: حفاظتی ضمانت درخواست گزار ہائی کورٹ نے کہا کہ زرتاج گل

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی