پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی اسٹوریج پر 1 کروڑ روپے جرمانہ تجویز
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی اسٹوریج اور فروخت پر ضبطگی اور 1 کروڑ روپےجرمانہ تجویز دے دی گئی۔
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں لائسنس کی منسوخی کے باوجود پیٹرول پمپ چلانے والےمالک پر 10 لاکھ روپے جرمانہ کی تجویز دی گئی۔
سیکریٹری پٹرولیم نے بتایا پٹرولیم ترمیمی بل 2025 کا مقصد پیرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنا ہے، پیٹرول اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ضبط کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سزائیں اور جرمانے بڑھا رہے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد، ترسیل ،اسٹوریج اور تقسیم میں آئی ٹی کا استعمال لا رہے ہیں، ہم پیٹرولیم سیکٹر کی پوری چین میں ڈیجیٹلائزیشن لا رہے ہیں۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ آخر پیٹرولیم سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن کا خرچ عوام کی جیب سے جائے گا، پیٹرولیم ترمیمی بل 2025 کے ذریعے کیا نیا کرنا ہے جو یہ بل لایا گیا ہے، ملک میں غیر قانونی پیٹرول پمپس نہیں ہونے چاہئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہونے کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، ضابطہ و رابطہ محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور وزارت تجارت و وزارت خزانہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر معاملات اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور کمیٹی کے غور کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل کے تحت اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی، ادویہ ساز صنعت کی پائیدار فراہمی اور مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اہم ادویات سے متعلق فیصلوں کی وجوہات عوام تک واضح انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ان کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔