بانی پی ٹی آئی کے بیٹے ویزا مانگیں گے تو ۔۔: راناثنااللہ کا بڑا بیان
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور راناثنااللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے ویزا مانگیں گے تو ان کو دے دیا جائے گا۔
راناثنااللہ نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے پاکستان نہیں آئیں گے میں نے پہلے بھی کہا تھا بانی 4 سال وزیراعظم رہے تب بھی ان کے بیٹوں کو آنے نہیں دیا گیا اور بطور وزیراعظم حلف برداری تقریب پر بھی بیٹے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ بات بنتی نہیں ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے ملاقات کےلیے آنا چاہتے ہیں، اگر بیٹے ویزا مانگیں گے تو ان کو دے دیا جائے گا۔
10 مرلہ میں 2 پودے ،1کنال میں 4 پودے لگانے کی پابندی
راناثنااللہ نے کہا کہ 14 اگست کو پوری قوم سڑکوں پر ہوگی اور پی ٹی آئی نقصان پہچانے کی کوشش کرے گی، یوم آزادی کے سلسلے میں انتظامیہ سخت حفاظتی اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 14 اگست کو کوئی ایسی صورت نکالنے کی کوشش کرے گی کہ نقصان ہو کسی نے کوئی ایسا پروگرام بنا رکھا ہے تو حراست یا نظر بند کیا جا سکتا ہے تاہم پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔
د بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری روکنے کی میڈیا رپورٹ کی تردید
انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو وزیراعظم سے سیاسی ملاقات کے لیے نہیں آئے تھے وہ وزیراعظم کےکزن کے انتقال پر تعزیت کےلیے آئے تھے، بلاول بھٹو کی وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا جب سیاستدان بیٹھیں تو دیگر معاملات پربھی ہلکی پھلکی بات چیت ہو جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔