ریاض:

عرب لیگ، خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی) اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غزہ میں قبضے کے لیے اسرائیلی منصوبے اور جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت فوری طور پر ختم کی جائے۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق او آئی سی، خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی) اور عرب لیگ کی وزارتی کمیٹی نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی گئی ہے۔

مشترکہ بیان میں اسرائیل کے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کو یکسر مسترد کردیا ہے اور اس کو بین الاقوامی قوان کی خلاف ورزی، سنگین جارحیت اور قبضے کی توسیع قرار دیا۔

او آئی سی نے کہا کہ طاقت کے ذریعے قبضہ عالمی قوانین کے منافی ہے اور مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی عزائم غزہ میں قتل عام، بھوک مسلط کرنے، جبری بے دخلی کی کوشش ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، اسرائیلی پالیسیوں نے امن کے کسی بھی امکان کو ختم کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے۔

عرب لیگ، جی سی سی اور او آئی سی کے اعلامیے میں کہاگیا کہ غزہ کو 22 ماہ سے مکمل محاصرے اور مسلسل جارحیت کا سامنا ہے اور مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بھی اسرائیلی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

عرب لیگ جی سی سی اور او آئی سی نے غزہ سے اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: او آئی سی عرب لیگ قبضے کے ہے اور

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم