اوآئی سی، جی سی سی اور عرب لیگ کا غزہ پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے پر اظہار مذمت
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
ریاض:
عرب لیگ، خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی) اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے غزہ میں قبضے کے لیے اسرائیلی منصوبے اور جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت فوری طور پر ختم کی جائے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق او آئی سی، خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی) اور عرب لیگ کی وزارتی کمیٹی نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی گئی ہے۔
مشترکہ بیان میں اسرائیل کے غزہ پر مکمل فوجی قبضے کے منصوبے کو یکسر مسترد کردیا ہے اور اس کو بین الاقوامی قوان کی خلاف ورزی، سنگین جارحیت اور قبضے کی توسیع قرار دیا۔
او آئی سی نے کہا کہ طاقت کے ذریعے قبضہ عالمی قوانین کے منافی ہے اور مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی عزائم غزہ میں قتل عام، بھوک مسلط کرنے، جبری بے دخلی کی کوشش ہے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، اسرائیلی پالیسیوں نے امن کے کسی بھی امکان کو ختم کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کیا ہے۔
عرب لیگ، جی سی سی اور او آئی سی کے اعلامیے میں کہاگیا کہ غزہ کو 22 ماہ سے مکمل محاصرے اور مسلسل جارحیت کا سامنا ہے اور مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بھی اسرائیلی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
عرب لیگ جی سی سی اور او آئی سی نے غزہ سے اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: او آئی سی عرب لیگ قبضے کے ہے اور
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔