نیٹ فلکس کی مقبول سیریز ’ویڈنزڈے‘ کا دوسرا سیزن ریلیز، شائقین پُرجوش
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
نیٹ فلکس کی مقبول سیریز "ویڈنزڈے” سیزن 2 کا پہلا حصہ ریلیز کردیا گیا ہے جس کو شائقین کی جانب سے بےحد پسند کیا جارہا ہے اور شائقین دوسرے حصے کی ریلیز کیلئے پُرجوش ہیں۔
سپر نیچرل ایڈونچر سے بھرپور نیٹ فلکس سیریز ’ویڈنزڈے‘ کا دوسرا سیزن 6 اگست 2025 کو ریلیز ہو چکا ہے، جبکہ باقی اقساط کا دوسرا حصہ 3 ستمبر کو ریلیز کیا جائے گا۔
دوسرے سیزن میں پیش کی گئی اس ڈراؤنی لڑکی ’ویڈنزڈے ایڈمز‘ کی نئی کہانی کو مداحوں کی جانب سے بےحد پسند کیا جارہا ہے اور مداحوں کا کہنا ہے کہ اس سیریز کا دوسرا سیزن پہلے سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔
یاد رہے کہ ویڈنزڈے کا پہلا سیزن 2022 میں ریلیز ہوا تھا جس نے کئی ایوارڈز بھی جیتے، اور اس میں مرکزی کردار ہالی ووڈ کی نوجوان اداکارہ جینا اورٹیگا نے ادا کیا تھا۔
جینا اورٹیگا کے مطابق نئے سیزن میں ہارر مناظر پر زیادہ توجہ دی گئی ہے جبکہ ویڈنزڈے کا کوئی رومانوی تعلق نہیں دکھایا جائے گا۔
اس سیزن میں کیتھرین زیٹا جونز، لوئس گزمین اور دیگر پچھلے کرداروں کے ساتھ ساتھ اسٹیو بوسیمی، ہیلی جوئل اوسمنٹ اور لیڈی گاگا بھی نئے کرداروں میں شامل ہوں گے۔
اس سیزن میں بھی مجموعی طور پر آٹھ اقساط ہوں گی، جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہدایت کار مائلز ملار کے مطابق اس بار ویڈنزڈے ایک پیچیدہ اور پراسرار کہانی میں الجھ جائے گی جہاں کچھ بھی ویسا نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے۔
واضح رہے کہ جولائی 2025 میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ویڈنزڈے کا تیسرا سیزن بھی بنایا جائے گا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کا دوسرا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔