ایک سال میں 9 لاکھ سے زائد افراد کی کمی! جاپان کا آبادی بحران شدت اختیار کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
جاپان میں کم شرح پیدائش ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
شرح پیدائش میں مسلسل کمی کے باعث جاپان میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو قومی سلامتی اور معاشی ترقی دونوں کے لیے چیلنج ہے۔
جاپانی وزارت داخلہ کے مطابق، صرف 2024 میں آبادی میں 9 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، جاپان کی تقریباً 30 فیصد آبادی پہلے ہی 65 سال سے زائد عمر کی ہے، جس سے پالیسی ساز اور محققین شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
حکومت شرح پیدائش میں اضافے کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کر رہی ہے، جن میں کام اور خاندانی زندگی میں توازن، بچوں کی دیکھ بھال، اور رہائش کی بہتر سہولیات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا جیسے اقدامات سے جاپان بھی اس بحران پر قابو پا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔