امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کی بدولت بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کی بدولت بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے محاذ پر بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
دورہ امریکا کے دوران آرمی چیف پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے خطاب میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی عزت و وقار کا سرچشمہ اور دیگر پاکستانیوں کی طرح پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہاکہ بیرون ملک پاکستانی ’برین ڈرین نہیں بلکہ برین گین‘ ہے، بھارت اپنے آپ کو ’وشوا گرو‘ کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں۔
انہوں نے کہاکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی ٹرانس نیشنل دہشتگرد سرگرمیوں میں شمولیت عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے، اس کی مثالیں کینیڈا میں سکھ رہنما کا قتل، قطر میں 8 بھارتی نیول افسران کا معاملہ، اور کلبھوشن یادیو جیسے واقعات ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہاکہ پاکستان نے بھارت کی امتیازی اور دوغلی پالیسیوں کے خلاف کامیاب سفارتی جنگ لڑی ہے، حالیہ بھارتی جارحیت جو شرمناک بہانوں کے ساتھ کی گئی، نے پاکستان کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی اور معصوم شہریوں کو شہید کیا۔
انہوں نے کہاکہ اس بھارتی جارحیت نے خطے کو ایک خطرناک طور پر بھڑکنے والی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، جہاں کسی بھی غلطی کی وجہ سے دو طرفہ تصادم بہت بڑی غلطی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان صدر ٹرمپ کا انتہائی مشکور ہے جن کی اسٹریٹجک لیڈر شپ کی بدولت نا صرف انڈیا پاکستان جنگ رکی بلکہ دنیا میں جاری بہت سی جنگوں کو روکا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اس اشتعال انگیزی کا پُرعزم اور بھرپور جواب دیا، ہم نے وسیع تر تنازع کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔
فیلڈ مارشل نے کہاکہ بھارت اب بھی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے پر بضد ہے، پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
آرمی چیف نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا کوئی اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں، اور پاکستان ان قراردادوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
فیلڈ مارشل نے کہاکہ محض ڈیڑھ ماہ کے وقفے کے بعد میرا دوسرا دورہ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے ایک نئی جہت کی علامت ہے، ان دوروں کا مقصد تعلقات کو ایک تعمیری، پائیدار اور مثبت راستے پر گامزن کرنا ہے۔
جنرل عاصم منیر نے کہاکہ غزہ میں جاری نسل کشی، ایک بدترین انسانی المیہ ہے جس کے عالمی اور علاقائی دونوں سطح پر شدید مضمرات ہیں۔ افغانستان سے کئی دہشگرد تنظیمیں جس میں فتنہ الخوارج شامل ہے، پاکستان کے خلاف متحرک ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہماری ترقی اور خوشحالی دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں سے وابستہ ہے، اس وقت دہشتگردی کے کیخلاف پاکستان آخری فصیل ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں اور انہیں پوری قوت سے انصاف کا سامنا کرنا ہوگا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی وطن عزیز کے ساتھ عقیدت اور وابستگی ایک کھلی حقیقت ہے۔
ناگہانی آفات کی صورت میں بھی بیرون ملک پاکستانی سب سے پہلے امداد کی اپیل پر لبیک کہتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ آج کا سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے، لیکن ملک دشمن عناصر اسے ساختہ افراتفری پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قرآن پاک کی آیات کا حوالے دیتے ہوئے کہاکہ: ’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو تاکہ تم نادانی میں کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ اور بعد میں اپنے کیے پر پشیمان نہ ہو۔‘
انہوں نے کہاکہ نئی نسل کی سوچ، تعلقات اور ترجیحات مختلف ہیں، جسے سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کی بدولت بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے محاذ پر بھی پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد جاری ہے، جو معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہاکہ ہماری 64 فیصد نوجوان آبادی بے پناہ صلاحیتوں سے بھرپور ہے، جو مستقبل کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ ہماری بھارت کے خلاف سفارتی اور سیکیورٹی میدان میں حالیہ کامیابی، اللہ تعالیٰ کی رحمت، قوم کی اجتماعی کوشش، سیاسی لیڈرشپ کی دوراندیشی و استقامت اور ہماری بہادر افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ اب ہمارے سامنے سوال یہ نہیں کہ اگر ہم اٹھیں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ کتنی جلدی اور کتنی قوت سے ہم اٹھیں گے؟۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہاکہ آئیے ہم اپنے آباؤ اجداد کی میراث قائم رکھتے ہوئے ایک نئے جذبے اور مقصد کے ساتھ کھڑے ہو کر آگے بڑھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری پاکستان نے فیلڈ مارشل بیرون ملک امریکا کے کی بدولت کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔