آذر صدر کو فون، امن معاہدے پر مبارکباد، مسئلہ کارا باخ پر اپنے بھائیوں کیساتھ: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر جمہوریہ آذربائیجان الہام علیوف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں حال ہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والے اس تاریخی امن معاہدے پر صدر علیوف اور آذربائیجان کے عوام کو مبارکباد دی۔ اتوار کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق اپنی دوستانہ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تین دہائیوں پرانے تنازعے کو پرامن طور پرانجام تک پہنچنے سے قفقاز کے علاقے میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے صدر الہام علیوف کے بصیرت انگیز کردار کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے اس تاریخی معاہدے کو منطقی بنانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو خاص طور پر سراہا۔ صدر علیوف نے کاراباخ کے معاملے پر آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ اور مسلسل حمایت کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی عوام اس بنیادی مسئلے پر اپنے آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں۔ صدر علیوف نے وزیراعظم شہبازشریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پرامن ماحول سے پاکستان اور وسطی ایشیا ئی ممالک کے درمیان ترقی اور روابط بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کے مثبت انداز پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ لاچن اور خانکنڈی میں حالیہ بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے صدر علیوف کو جلد ہی پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی اپنی دعوت کا اعادہ کیا۔ دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اقلیتوں کی فلاح و بہبود حکومت کے ترجیحی فرائض میں شامل ہے۔ حکومت اقلیتوں کی سرکاری اداروں، پارلیمنٹ اور قومی دھارے میں بھرپور شمولیت کے لیے پرعزم ہے۔ اقلیتوں کے قومی دن پر اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ملکی تعمیر و ترقی میں اقلیتوں کے کلیدی کردار کی تحسین میں اقوام عالم کے ساتھ ہے، آج ہم بانی پاکستان کے اقلیتوں کے بارے میں فرمودات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور یکساں حقوق کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنے کے عہد کی تجدید کرتے ہیں۔ علماء اور مذہبی رہنماؤں کا مذہبی آزادی کے تحفظ، عبادت گاہوں اور اقلیتی نمائندوں کی عزت و ناموس کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ہے۔ شہباز شریف نے ڈاکٹر رتھ فائو کی برسی کے موقع پرانہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر رتھ فا نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ پاکستان کے غریب اور محروم طبقات کی خدمت میں گزارا۔ بلوچستان کے پوزیشن ہولڈر سے ملاقات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اکرام اللہ کاکڑ کا خاندان سیلاب سے شدید متاثر تھا،2022 میں دورہ قلعہ سیف اللہ کے دوران اکرام اللہ سے امدادی خیمے میں ملاقات ہوئی تھی، ملاقات میں اکرام اللہ نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اتوار کو یہاں بلوچستان کے طالب علم اکرام اللہ کاکڑ سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے اکرام اللہ کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر اکرام اللہ نے کہا کہ پچھلی مرتبہ میں نے آپ سے پوزیشن حاصل کرنے کا وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کیا اور آپ سے ملاقات کیلئے آیا ہوں۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے اکرام اللہ کو یاد دلایا کے گزشتہ ملاقات میں آپ نے سیاہ رنگ کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دن بہت چمکتی دھوپ تھی اور آپ نے کہا تھا کہ ہمارے علاقہ میں کوئی سکول نہیں، بچوں کو تعلیم کے حصول کیلئے بہت دور جانا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پھر میں اکرام اللہ کو لارنس کالج لے آیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ آپ نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے تو مجھے بہت فخر محسوس ہوا۔ جس پر اکرام اللہ نے وزیر اعظم سے اظہار تشکر کیا۔ طالب علم اکرام اللہ نے وزیر اعظم سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ لوگ سیاست میں ہر کسی کیلئے کچھ نا کچھ کرتے ہیں لیکن آپ کا رویہ میرے ساتھ سیاست سے ہٹ کر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کالج میں ٹاپ تھری سٹوڈنٹس کو سکالر شپ ملتی ہے لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ میں ڈبل سکالر شپ حاصل کروں گا۔ میں پہلے بھی سکالر شپ پر پڑھ رہا تھا اور الحمد للہ میں نے محنت کی اور مجھے یہ سکالر شپ ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری کامیابی آپ کی مرہون منت ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے طالب علم سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ سب اللہ تعالی کا کرم ہے ، وہ انسانوں کو ذریعہ بنا دیتا ہے، مجھے اللہ تعالی نے توفیق دی اور آپ کیلئے ذریعہ بنایا۔ وزیراعظم نے مستقبل کے حوالے سے سوال کیا تو اکرام اللہ نے کہا کہ میں سی ایس ایس کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کروں گا کیونکہ آپ بھی ملک و قوم کیلئے بہت محنت کر رہے ہیں۔ ہم سب طالبعلم یہ خواہش رکھتے ہیں آپ جیسا لیڈر ہمیں مستقبل میں بھی نصیب ہو۔ وزیر اعظم کے استفسار پر اکرام اللہ نے بتایا کہ میں کھیلوں کے ساتھ ساتھ تقریری مقابلوں میں بھی شرکت کرتا ہوں۔ اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے طالبعلم اکرام اللہ کو خصوصی تحفہ بھی پیش کیا اور کہا کہ یہ تحفہ مستقبل میں آپ کی پڑھائی اور عملی زندگی میں بھی کام آئے گا۔ طالب علم اکرام اللہ کاکڑ نے میٹرک کے امتحان میں راولپنڈی بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے، جس پر وزیر اعظم نے ملاقات کیلئے اکرام اللہ کو مدعو کیا تھا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، اکرام اللہ کے والدین اور اساتذہ بھی موجود تھے۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اکتوبر کے پہلے ہفتے میں جاپان جائیں گے، یہ دورہ حکومتِ جاپان کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے اور 20 برس بعد کسی پاکستانی وزیراعظم کا پہلا جاپانی دورہ ہوگا۔ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران جاپان کی جانب سے پاکستان کے لیے بڑے معاشی و تجارتی پیکج کا اعلان متوقع ہے، جس میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور برآمدات کے فروغ سے متعلق منصوبے شامل ہوں گے، متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی ہوں گے، جنہیں دونوں ممالک کے تعلقات میں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔اس سے قبل 2005 میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے جاپان کا دورہ کیا تھا۔جاپان کے سفیر اکاماتسو شُوئچی نے اس دورے کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جاپان پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور یہ دورہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف جاپانی وزیراعظم سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، وہ چاہتے ہیں یہ دورہ حکومتی سطح کے ساتھ عوامی، کاروباری اور تعلیمی شعبوں میں بھی تعاون کے نئے دروازے کھولے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎