الو ارجن کو ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اہلکار نے روک لیا، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
تامل فلم پشپا کیلئے مشہور جنوبی بھارتی سپر اسٹار الو ارجن ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق الو ارجن ممبئی ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اہلکار کے ساتھ اُلجھ پڑے جس کے بعد انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
الو ارجن جب ممبئی سے سفر کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو انہوں نے ماسک پہن رکھا تھا۔ تاہم سیکیورٹی اہلکار نے ان سے کہا کہ ماسک ہٹائیں، جس پر اداکار اور اہلکار کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ الو ارجن ماسک نہ ہٹانے کیلئے سیکیورٹی اہلکار کے ساتھ بحث کر رہے ہیں اور بعد میں ان کے اسسٹنٹ کی مداخلت پر وہ ایک لمحے کے لیے ماسک ہٹاتے ہیں اور پھر دوبارہ لگا لیتے ہیں۔
Please follow the rules ????
Yesterday at Airport security , Allu Arjun was stopped by an officer and asked to show his face with Id.
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے الو ارجن کو مغرور اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا ہے۔ کئی مداحوں نے بھی ان سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین کی پاسداری کریں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پشپا اسٹار الو ارجن کو فلم ’پشپا 2‘ کی اسکریننگ کے دوران بھگدڑ مچنے کے واقعے میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں ایک رات جیل میں گزارنی پڑی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی اہلکار الو ارجن
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔