اترکاشی سانحے پر بھارت میں بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی نااہلی اور فوجی نقصانات چھپانے کی کوششوں  کے ساتھ ساتھ ناقص منصوبہ بندی بے نقاب ہو گئی ہے۔

بھارت میں پیش آنے والے تمام سانحات میں مودی حکومت کی نااہلی ثابت ہو رہی ہے اور اترکاشی کا سانحہ ان ہی کھوکھلے دعووں اور ناقص کارگردی کی تازہ مثال ہے۔

بھارتی جریدے منٹ کے مطابق اترکاشی میں شدید بارش کے بعد سیلاب اور مٹی کا تودہ گرنے سے متعدد بھارتی فوجی اور 50 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔ دھارالی گاؤں اترکاشی میں موسلا دھار بارش سے مکانات، سڑکیں اور بستیاں تباہ ہو گئی ہیں جب کہ بھارتی فوجی تنصیبات بھی تباہ  ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور غیر منصوبہ بند ترقی اترکاشی جیسے سانحات کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹائے جانے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ بھارتی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کی پرواز موسم کی خرابی کے باعث مؤخر کر دی گئی ہے۔

5 دن گزرنے کے باوجود لاپتا اہلکاروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ یہ حادثہ ناقص انفرا اسٹرکچر اور حکومتی بدانتظامی کا واضح ثبوت ہے۔ بھارتی فوجیوں کی موت کے باوجود مودی سرکار اپنی سیاسی ناکامیوں کو چھپانے اور جھوٹا امیج سنوارنے میں مصروف ہے۔

دوسری جانب گودی میڈیا بھی فوجی نقصانات چھپا کر مودی راج کے جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ قدرتی آفت میں فوجی ہلاکتیں چھپانا مودی راج کی غیر پیشہ ورانہ سوچ کا ثبوت ہے۔ آپریشن ہو یا قدرتی آفات، مودی سرکار اپنے فوجیوں کی موت کی خبر چھپا کر ان کی توہین کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت