Express News:
2026-07-24@05:54:17 GMT

بھارت کی عالمی تنہائی اور جھوٹا بیانیہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

بھارتی فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے بھارت کے لیے عالمی ہزیمت کا سبب بننے والی 4 روزہ جنگ میں پاکستان کے 5 لڑاکا طیاروں سمیت 6 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعوے کر کے بھارتی ایئر فورس کی پیشہ ورانہ اہلیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ پاکستان نے بھارت کو چیلنج کیا کہ دونوں ممالک اپنے طیاروں کی فہرستیں آزاد ماہرین کے سامنے پیش کریں تاکہ حقیقت دنیا پر آشکار ہو لیکن خدشہ ہے بھارت ایسا کرنے سے کترائے گا۔

پاکستان کے خلاف بھی بھارت کا رویہ ہمیشہ الزام تراشی اور جارحیت پر مبنی رہا ہے۔ ہر داخلی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا بھارتی حکومت کی پرانی عادت بن چکی ہے۔ چاہے پلوامہ کا واقعہ ہو، سرحدی کشیدگی یا کسی دہشت گرد حملے کی ذمے داری، بغیر ثبوت پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دینا بھارت کی ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی ہے، لیکن عالمی برادری اب ان حربوں سے واقف ہو چکی ہے۔ وہ سوال اٹھا رہی ہے، ثبوت مانگ رہی ہے اور بھارت کو آئینہ دکھا رہی ہے۔

 بین الاقوامی سیاست میں وقت کی گردش اور حالات کی کروٹ بعض اوقات بڑے بڑے دعویداروں کو زمین پر لے آتی ہے۔ یہی کچھ آج بھارت کے ساتھ ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود کو خطے کی بڑی طاقت کے طور پر پیش کرنے میں مصروف رہا، جو دنیا کو یہ باور کراتا رہا کہ وہ معاشی، عسکری اور سفارتی لحاظ سے ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے، وہی بھارت آج اپنے جھوٹے بیانیے کے بوجھ تلے دب کر عالمی تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

یہ تنہائی محض کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، علاقائی تعلقات، داخلی سیاست، انسانی حقوق، معاشی ترقی اور سفارتی وقار ہر میدان میں دکھائی دے رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو روسی تیل کی خریداری کا حوالہ دیتے ہوئے 50 فیصد کا بھاری ٹیرف لگا دیا اور بھارتی معیشت کو مردہ قرار دیا ہے، اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے اوائل میں پاک، بھارت تنازع حل کرنے کی کوشش کے دوران پاکستانی قیادت کو برابری کی حیثیت دے کر بھارتیوں کو اور برہم کر دیا۔

اس سب نے بھارت کو ایک ایسی صورتحال میں ڈال دیا، جہاں اسے اپنی طاقت کی حدوں پر غور کرنا پڑرہا ہے، مودی نے اس ہفتے اعتراف کیا کہ تجارتی تنازع پر انھیں ذاتی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ مودی سرکار کی بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ بہتر کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے اور مودی گزشتہ 7 برسوں میں پہلی بار رواں ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں، مگر تعلقات اب بھی سرحدی جھڑپ اور چین کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاکستان کی عسکری کشیدگی میں حمایت کی وجہ سے کشیدہ ہیں۔ چین، اپنی طرف سے نئی دہلی کی ان کوششوں پر محتاط ہے جو وہ چین کا متبادل مینوفیکچرنگ حب بنانے کے لیے کر رہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے روس کے صدر ولادیمیر پیوتن سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ فریقین نے بھارت، روس خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹرٹیجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا عزم کیا ہے۔ روس کی ایک مستحکم شراکت دار کے طور پر حیثیت کو بھارت میں حکام بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں، مودی نے ایکس پر اپنے رابطے کے بعد کہا کہ میں اس سال کے آخر میں روسی صدر پیوتن کی بھارت میں میزبانی کرنے کا منتظر ہوں، مگر اس دوڑ دھوپ اور ضد سے ہٹ کر بھارت کی یہ خواہش کہ وہ ایک معاشی اور سفارتی طاقت کے طور پر اپنے عروج کو مستحکم کرے، اچانک غیر یقینی صورتحال سے ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے۔

بھارتی حکام اور ماہرین میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ملک کو اپنی طویل آزمودہ اسٹرٹیجک خود مختاری کی پالیسی پر واپس جانا ہوگا۔ ٹرمپ کے سخت اقدامات نے انتہائی اہم شراکت داری کی اسٹرٹیجک منطق کو تہ و بالا کر دیا ہے، جو 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بڑی محنت سے پروان چڑھائی گئی تھی، نئی دہلی کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی عملی اسٹرٹیجک ایڈجسٹمنٹس کرنا ہوں گی۔

درحقیقت، یہ تعلقات اس سے پہلے ہی بگڑنا شروع ہوگئے تھے، جب ٹرمپ نے روسی تیل پر توجہ مرکوز کی، حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق تعلقات کی خرابی کا تعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ذاتی ناراضگی سے ہے۔ مودی سرکار کو اپنی کرپشن بچانے کی قیمت قومی وقار ، عالمی پوزیشن اور سفارتی تنہائی کی صورت میں چکانا پڑ رہی ہے، عالمی برادری میں مودی کی بے بسی، اڈانی سے جڑے مالیاتی مفادات کا نتیجہ ہے۔کشمیر کے مسئلے کو بنیاد بنا کر بھارت نے عالمی سطح پر ایک جھوٹا بیانیہ مرتب کیا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، وہاں تمام تر حالات معمول کے مطابق ہیں اور پاکستان وہاں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

یہ بیانیہ اتنی بار دہرایا گیا کہ بھارت خود اس پر یقین کرنے لگا، لیکن حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، اقوامِ متحدہ کی رپورٹیں، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے بیانات اور عالمی ذرایع ابلاغ کی خبریں اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہیں کہ بھارت کا دعویٰ ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں۔بھارت کی خارجہ پالیسی، جو کبھی نہرو کے زمانے میں غیر جانبداری، پرامن بقائے باہمی اور عالمی امن کے اصولوں پر استوار تھی، آج صرف مفاد پرستی، تکبر، اور علاقائی بالادستی پر مرکوز نظر آتی ہے۔

بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور مالدیپ جیسے قریبی ہمسایہ ممالک بھارت کے رویے سے ناخوش ہیں۔ چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی، پاکستان کے ساتھ مسلسل دشمنی اور افغانستان کے حوالے سے واضح حکمتِ عملی کا فقدان بھارت کی علاقائی حیثیت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ سری لنکا، نیپال، اور مالدیپ جیسے ممالک، جو ماضی میں بھارت کے قریب تھے، آج چینی سرمایہ کاری اور تعاون کے سبب نئی صف بندی کی طرف جا رہے ہیں۔

ایسے میں بھارت کی سفارتی تنہائی روز بروز گہری ہوتی جا رہی ہے۔روس اور یوکرین کے تنازعے میں بھارت کا رویہ بھی عالمی سطح پر مشکوک نگاہوں سے دیکھا گیا۔ ایک طرف وہ امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ معاشی تعاون اور تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے، دوسری طرف روس سے سستا تیل خرید کر مغرب کے اقتصادی مفادات کو چوٹ پہنچا رہا ہے۔ اس دوغلے رویے نے بھارت کو مغرب کی نظر میں غیر معتبر بنا دیا ہے۔ اندرونی طور پر بھی بھارت کی جمہوریت، جسے کبھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا تھا، آج انتہا پسندی، اقلیت دشمنی، مذہبی منافرت اور اظہارِ رائے پر پابندیوں کی زد میں ہے۔

مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک، متنازعہ شہریت قوانین، اور کشمیر میں لاک ڈاؤن جیسے اقدامات نے بھارت کے جمہوری چہرے پر بدنما دھبے لگا دیے ہیں۔ عالمی ادارے اور میڈیا ان مظالم کی نشاندہی کر چکے ہیں، مگر بھارت اپنے بیانیے کی پٹیاں آنکھوں پر باندھے ان حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔مودی حکومت نے میڈیا کو اپنی گرفت میں لے کر ایک ایسا منظر نامہ پیش کیا ہے جو زمینی حقائق سے بالکل مختلف ہے۔ معاشی ترقی کے بلند و بانگ دعوے، دفاعی طاقت کے خوش نما اعداد و شمار اور سفارتی کامیابیوں کے مبالغہ آمیز بیانات صرف اندرونی سیاست کو سہارا دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی معیشت کو مہنگائی، بے روزگاری، اندرونی بدامنی اور بین الاقوامی اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔

حال ہی میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی، یورپی پارلیمنٹ اور امریکی سینیٹ کے چند ارکان نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ وہ اشارے ہیں جنھیں بھارت جتنا بھی دبائے، مگر عالمی سطح پر ان کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت اپنی پالیسیوں اور بیانیے پر ازسرِ نو غور کرے، ورنہ عالمی تنہائی کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کا موجودہ حکمران طبقہ، خاص طور پر بی جے پی اور نریندر مودی کی قیادت میں، ایک ایسا نظریاتی ایجنڈا لے کر چل رہا ہے جو ’’ہندو توا‘‘ پر مبنی ہے۔ یہ ایجنڈا نہ صرف بھارت کے سیکولر آئین سے متصادم ہے بلکہ اس نے ملک کو داخلی طور پر تقسیم در تقسیم کردیا ہے۔ جب قوم کے اندر خود انتشار، خوف، عدم برداشت اور محرومی ہو، تو بیرونی دنیا بھی ایسے ملک کو قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں سمجھتی۔ اگر بھارت چاہتا ہے کہ اسے عالمی سطح پر وقار، احترام اور اثر و رسوخ حاصل ہو، تو اسے سچ کا دامن تھامنا ہوگا۔ جھوٹے بیانیے، الزام تراشی، اور میڈیا کے ذریعے مصنوعی سچائیاں گھڑنے سے وقتی فائدہ تو ہو سکتا ہے، مگر دیرپا مقام حاصل نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی اقوام سر بلند رہی ہیں۔

جنھوں نے اپنے اندر جھانکنے، اپنی غلطیاں تسلیم کرنے اور خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔بھارت کا جھوٹا بیانیہ اب دنیا کے لیے نیا نہیں رہا۔ یہ بیانیہ تاش کے پتوں کی طرح بکھرتا جا رہا ہے۔ اور جب کوئی ملک خود کو دنیا سے کاٹ لے، سچائی سے دور کر لے، اور اپنی برتری کے خمار میں دوسروں کو کمتر سمجھے، تو وہ خود تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی بھارت کے ساتھ ہو رہا ہے، اور اگر اسے خود کو عالمی برادری میں باوقار مقام دلوانا ہے، تو اسے جھوٹ، غرور اور جبر کے راستے سے ہٹ کر حقیقت، انکساری اور عدل کے راستے پر آنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عالمی سطح پر نے بھارت کو اور سفارتی بھارت کے بھارت کا بھارت کی کہ بھارت ا رہا ہے کے ساتھ بھارت ا دیا ہے کے لیے کیا ہے خود کو رہی ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا