واضح رہے کہ جرمنی نے دو روز پہلے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا اعلان کیا تھا، جرمنی امریکا کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا کہنا ہے کہ غزہ میں فوجی آپریشن میں توسیع کی وجہ سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جرمن میڈیا کو انٹرویو میں چانسلر مرز کا کہنا تھا کہ ہم ایسے تنازع میں ہتھیار فراہم نہیں کرسکتے، جسے صرف فوجی کارروائیوں سے حل کرنے کی کوشش ہو رہی ہو، جس سے لاکھوں عام شہریوں کی جان جا سکتی ہو اور جس میں پورے غزہ کا انخلا درکار ہو۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ ہم یہ نہیں کرسکتے اور نہ ہم یہ کر رہے اور میں خود بھی یہ نہیں کروں گا۔ جرمن چانسلر نے یہ بھی کہا کہ کچھ اسرائیلی فیصلوں پر تحفظات کے باوجود جرمنی کی اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونے کی اسی سالہ پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ جرمنی نے دو روز پہلے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا اعلان کیا تھا، جرمنی امریکا کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان