روسی عدالت نے ’یسوع مسیح‘ نامی شخص کو جرمانہ کیوں عائد کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
روسی شہر قازان میں ایک 45 سالہ شخص، جس کا عدالت میں نام یسوع پیٹرووِچ کرائسٹ درج ہے، کو غیر قانونی طریقے سے 45 غیر ملکیوں کو اپنے چھوٹے سے 32 مربع میٹر کے ایک کمرے والے اپارٹمنٹ میں رجسٹر کروانے کے جرم میں جرمانہ کیا گیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے حال ہی میں منظور شدہ نئے مہاجر قوانین کے تحت غیر قانونی مہاجرت پر کنٹرول سخت کرنے کے لیے جرمانے اور فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت یہ سزا دی گئی۔
تحقیقات کے مطابق اس شخص نے ہر فرد سے رجسٹریشن کے لیے قریباً 2 ہزار روبل (قریباً 25 امریکی ڈالر) وصول کیے۔ عدالت نے اسے 13 ہزار روبل (163 ڈالر) کا جرمانہ کیا ہے۔ روسی قوانین کے مطابق، ملک میں قانونی طور پر رہائش اور کام کے لیے مہاجرین کا رجسٹر ہونا لازمی ہے، جس کی عدم موجودگی میں بعض افراد غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایسٹر کی تقریب، مسیحی برادری کی خدمات کا اعتراف
عدالت یا پراسیکیوٹر آفس کو اس شخص کی اصل پیدائشی شناختی تفصیلات معلوم نہیں، کیونکہ وہ چند سال قبل اپنی اصل شناخت کو چھوڑ کر نام اور خاندانی نام تبدیل کرچکا ہے، اور صرف اصل والد کا نام پیٹرووِچ برقرار رکھا ہے۔ عدالت کے دستاویزات میں بتایا گیا کہ وہ عددیات (numerology) کا شیدائی ہے جس کی وجہ سے اس نے اپنے نام تبدیل کیے۔
یہ مقدمہ ابتدا میں بہار 2025 میں سننے کے لیے طے پایا تھا لیکن یسوع مسیح کے بار بار عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے متعدد بار ملتوی ہوا۔ اپریل میں عدالت نے اسے جبری طور پر پیش کرنے کا حکم دیا، اور مئی میں ماسکو ڈسٹرکٹ کورٹ نے اسے اسی نوعیت کی خلاف ورزیوں پر 60 ہزار روبل (755 ڈالر) جرمانہ بھی کیا تھا۔
روس میں 2024 میں غیر ملکی مزدوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں 6 لاکھ سے زائد غیر ملکی داخل ہوئے، جن میں سے نصف ملازمت کے لیے آئے تھے۔ زیادہ تر مہاجر ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان سے ہیں۔ قریباً 7 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن بھی روس میں مقیم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
روسی صدر روسی عدالت ولادیمیر پیوٹن یسوع مسیح.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: روسی عدالت ولادیمیر پیوٹن کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔