نئی دہلی میں اپوزیشن مارچ، راہول گاندھی سمیت متعدد رہنما گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک)نئی دہلی میں بھارتی اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی کو الیکشن کمیشن کی جانب مارچ کرنے پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ وہ تقریباً 300 اپوزیشن اراکین کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف جا رہے تھے۔
راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج کسی جماعت کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ آئین کے تحفظ اور ’’ایک شخص، ایک ووٹ‘‘ کے اصول کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستیں شفاف اور درست ہونی چاہئیں تاکہ ہر شہری کا ووٹ برابر اہمیت رکھے۔
پولیس نے مارچ کے دوران کانگریس کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی، شیو سینا کے رہنما سنجے راوت، اور سماجی کارکن ساگرکا گھوش سمیت کئی دیگر شخصیات کو بھی گرفتار کیا۔
اپوزیشن اتحاد کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ میں سنگین بے ضابطگیاں ہیں اور الیکشن کمیشن شفافیت برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ اس معاملے پر بھارت میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔