وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سروے کے مطابق کاروباری اداروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد گزشتہ چار سالوں کی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے، جو کہ انتہائی خوش آئند ہے ۔ 

 شہباز شریف کا ملکی معیشت کے بارے میں حالیہ گیلپ سروے بزنس کانفیڈنس انڈیکس رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ گیلپ سروے کے مطابق کاروباری اداروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد گزشتہ 4 سال کی بلند سطح پر ہے، ملکی معاشی سمت کا یہ اسکور 2021 کی چوتھی سہ ماہی کے بعد بلند ترین سطح ہے،  گیلپ سروے کے نتائج ملک کی سیاسی و اقتصادی صورتحال میں استحکام کے عکاس ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور اصلاحاتی ایجنڈے سے سسٹم میں شفافیت آئی، تاجر برادری کیلئے آسانیاں پیدا ہوئیں، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن، توانائی شعبے میں اصلاحات نے کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے نئی راہیں کھولیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہتر ہوتے معاشی اشاریے، بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری شفافیت کا ثبوت ہیں، میکرو اکنامک اصلاحات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے، حال ہی میں پی ایس ای 100 انڈیکس1 لاکھ 47 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح عبور کر گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی معاشی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، حکومت کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کیلئے مزید سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے،  کاروباری برادری سے مشاورت کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جارہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا کہ سروے کے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری