City 42:
2026-07-24@08:05:06 GMT

اسلحہ لائسنس سے متعلق اہم خبر

اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT

ویب ڈیسک: سندھ حکومت نے اسلحہ لائسنس کیلیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے موجودہ کمپیوٹرائزڈ لائسنسز کو اسمارٹ کارڈز پر مبنی لائسنس میں بدلنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

 وزیرداخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی زیرصدارت اسلحہ لائسنسنگ پر ہونے والے اجلاس میں اسلحہ لائسنس کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے پر غور کیا گیا۔ نیا نظام متعارف کرانے کا مقصد کارکردگی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

 وفاقی حکومت کا14اگست کوعام تعطیل کااعلان

 صوبہ سندھ میں لائسنس اجراء کیلئے جدیدٹیکنالوجی لانے کی تجویز دی گئی ہے جس میں موجودہ کمپیوٹرائزڈ لائسنسز کو اسمارٹ کارڈز پر مبنی لائسنس میں بدلنےکی سہولت ہو گی۔ اس نظام کو مجرمانہ ریکارڈ ڈیٹا بیس سے بھی منسلک کیا جائے گا۔ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو اسلحہ لائسنس کا حصول ناممکن ہو گا۔

 وزیرداخلہ سندھ نے نادرا کو لائسنس پر بلٹس کے بیلسٹک دستخط شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔گولیوں کے بیلسٹک دستخط جرائم میں ملوث افراد تک پہنچنے میں معاون ہوں گے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری

 نئے  سمارٹ کارڈز موجودہ فیس ڈھانچے کے تحت ہی جاری ہوں گے۔

 وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں پر مالی بوجھ نہ ڈالنےکو یقینی بنایا جائے گا اسلحہ لائسنس نظام کی اصلاحات عوامی مفاد میں ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اسلحہ لائسنس

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت