اسلحہ لائسنس سے متعلق اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: سندھ حکومت نے اسلحہ لائسنس کیلیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے موجودہ کمپیوٹرائزڈ لائسنسز کو اسمارٹ کارڈز پر مبنی لائسنس میں بدلنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
وزیرداخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی زیرصدارت اسلحہ لائسنسنگ پر ہونے والے اجلاس میں اسلحہ لائسنس کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانے پر غور کیا گیا۔ نیا نظام متعارف کرانے کا مقصد کارکردگی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
وفاقی حکومت کا14اگست کوعام تعطیل کااعلان
صوبہ سندھ میں لائسنس اجراء کیلئے جدیدٹیکنالوجی لانے کی تجویز دی گئی ہے جس میں موجودہ کمپیوٹرائزڈ لائسنسز کو اسمارٹ کارڈز پر مبنی لائسنس میں بدلنےکی سہولت ہو گی۔ اس نظام کو مجرمانہ ریکارڈ ڈیٹا بیس سے بھی منسلک کیا جائے گا۔ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد کو اسلحہ لائسنس کا حصول ناممکن ہو گا۔
وزیرداخلہ سندھ نے نادرا کو لائسنس پر بلٹس کے بیلسٹک دستخط شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔گولیوں کے بیلسٹک دستخط جرائم میں ملوث افراد تک پہنچنے میں معاون ہوں گے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری
نئے سمارٹ کارڈز موجودہ فیس ڈھانچے کے تحت ہی جاری ہوں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں پر مالی بوجھ نہ ڈالنےکو یقینی بنایا جائے گا اسلحہ لائسنس نظام کی اصلاحات عوامی مفاد میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسلحہ لائسنس
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔