آپ سے میٹنگ کے بعد بات ہوگی، سی ای او پی ایس ایل کا ملتان سلطانز کو جواب
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
گزشتہ روز پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) حکام، فرنچائز مالکان اور آفیشلز کی اہم میٹنگ ہوئی۔
میٹنگ میں ٹیم آفیشلز ویڈیو کال پر موجود رہے، میڈیا اور سوشل میڈیا میں تند و تیز بیانات کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والے ملتان سلطانز کے مالک علی ترین حیران کن طور پر شریک نہ ہوئے، البتہ ان کے نمائندے موجود تھے۔
ایک موقع پر ملتان سلطانز کے نمائندے نے کہا کہ پی سی بی بار بار اہل فرنچائز کا کہہ رہا ہے اس کا مطلب کیا ہے، کیا ہم اہل ٹیموں میں شامل ہیں؟
لیگ کے سی ای او سلمان نصیر نے جواب میں کہا کہ اس میٹنگ کے بعد آپ سے الگ بات کروں گا۔
واضح رہے کہ ایونٹ کے اپریل، مئی میں انعقاد کا پہلے ہی فیصلہ ہو گیا تھا، اب بورڈ نے فارمیٹ کے حوالے سے بعض تجاویز شیئر کیں، جن کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔
موجودہ فارمیٹ کو برقرار رکھنا ممکن نہیں کیونکہ 60 میچز سے ٹورنامنٹ 2 ماہ تک جاری رکھنا پڑے گا۔
ہر ٹیم کا دیگر سے لیگ راؤنڈ میں ایک میچ یقینی ہو گا، سب کے دیگر ایک یا دو ابتدائی میچز کے حریف کا فیصلہ بعد میں ہوگا۔ 35 سے 44 میچز کا انعقاد ہو سکتا ہے۔
حکام نے آئی سی سی ایونٹس کی طرح ابتدائی راؤنڈ کے بعد 2 ٹیموں کو باہر کر کے سپر 6 کی بھی تجویز دی، البتہ فرنچائز اس سے متق نہیں، ان کے مطابق شہروں کی لیگ میں سے 2 ٹیمیں پہلے ہی باہر ہوگئیں تو ایونٹ میں دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔