ژوب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، مزید 3 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے 7 تا 9 اگست کے دوران بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازه میں کامیاب کارروائیوں کے دوران 47 بھارتی سرپرستی میں فعال خوارج کو ہلاک کردیا، جس کے بعد 10 اور 11 اگست کی درمیانی شب پاکستان اور افغانستان سرحد کے قریب سمبازه کے گرد و نواح میں ایک منصوبہ بند کلیئرنس آپریشن کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، 33 بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج ہلاک
آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کے دوران مزید 3 بھارتی پشت پناہی رکھنے والے خوارج کو ہلاک کر دیا گیا، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔
اس حالیہ آپریشن کے بعد گزشتہ 4 دن کے دوران ہلاک ہونے والے خوارج کی مجموعی تعداد 50 ہو گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جارہا ہے، سرفراز بگٹی
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ، امن واستحکام کو یقینی بنانے اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن اسلحہ امن واستحکام بلوچستان پاکستان خوارج دھماکہ خیز مواد ژوب سمبازه سیکیورٹی فورسز کارروائی کلیئرنس آپریشن گولہ بارود.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امن واستحکام بلوچستان پاکستان خوارج دھماکہ خیز مواد ژوب سیکیورٹی فورسز کارروائی کلیئرنس آپریشن گولہ بارود سیکیورٹی فورسز کے دوران
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔