خواتین کا مالی طور پر مستحکم مردوں کی جانب رجحان فطری ہے: ہمایوں اشرف
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
معروف اداکار ہمایوں اشرف نے ایک حالیہ گفتگو میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ موجودہ دور میں محبت اور رشتوں کے فیصلے زیادہ تر مالی استحکام سے جڑے ہوتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ آج کی محبت جذبات کے ساتھ ساتھ مادّی حقائق پر بھی قائم ہے اور یہ رویہ غیر حقیقی نہیں بلکہ ایک عملی سوچ کی عکاسی کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس مالی وسائل نہ ہوں تو مسترد کیا جانا فطری امر ہے اور اس پر برا منانے کی ضرورت نہیں ہمایوں اشرف نے اپنی بہن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کسی ایسے شخص سے شادی کرنے کا سوچے جو کما نہیں رہا تو وہ اسے ضرور یہ مشورہ دیں گے کہ وہ فیصلہ کرنے سے پہلے اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرے ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی خاتون صرف مالی حیثیت کی وجہ سے انہیں مسترد کرے تو انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ یہ اس کی ترجیح اور سوچ ہے اور بالکل اسی طرح اگر وہ اپنی بہن یا کزن کے لیے رشتہ دیکھ رہے ہوں تو وہ بھی لڑکے کی آمدنی اور مالی استحکام کو لازمی دیکھیں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔