پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
(حاشر احسن )پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 14 اگست دھرنے کی سازش اور بغیر اجازت کانفرنس کیس میں 10 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی گئی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آبادمیں ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ عمران امیر نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی اورپی ٹی آئی کارکنان کی بیس بیس ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانتیں منظور کرلیں۔
وکیل صفائی نے کہاکہ ہمارے تمام کارکنان کیخلاف بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا، یہی تمام دفعات اٹھا کر پہلے تھانہ لوہی بھیر کے مقدمہ میں لگائی گئی تھی،یہ تمام ملزمان سٹوڈنٹ ہیں یہ کوئی احتجاج نہیں کررہے تھے۔
مغوی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت 20 اگست کو مقرر
پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ایڈووکیٹ مرزا عاصم بیگ، انصر محمود کیانی اور سردار وجاہت سمیع عدالت میں پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کارکنان کی
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔