پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
(حاشر احسن )پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 14 اگست دھرنے کی سازش اور بغیر اجازت کانفرنس کیس میں 10 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی گئی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آبادمیں ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ عمران امیر نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی اورپی ٹی آئی کارکنان کی بیس بیس ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانتیں منظور کرلیں۔
وکیل صفائی نے کہاکہ ہمارے تمام کارکنان کیخلاف بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا، یہی تمام دفعات اٹھا کر پہلے تھانہ لوہی بھیر کے مقدمہ میں لگائی گئی تھی،یہ تمام ملزمان سٹوڈنٹ ہیں یہ کوئی احتجاج نہیں کررہے تھے۔
مغوی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت 20 اگست کو مقرر
پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے ایڈووکیٹ مرزا عاصم بیگ، انصر محمود کیانی اور سردار وجاہت سمیع عدالت میں پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کارکنان کی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔