باجوڑ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید 5 اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
باجوڑ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید 5 اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کی حکومت باجوڑ کے معاملے پر ہمارے ساتھ ہے، طلال چوہدری
باجوڑ میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے 5 اہلکاروں کی نمازِ جنازہ سول سیکرٹریٹ پشاور میں ادا کر دی گئی۔
نمازِ جنازہ میں خیبرپختونخوا کابینہ کے اراکین، اعلیٰ سرکاری افسران، پولیس اہلکار اور شہدا کے لواحقین نے شرکت کی۔ شہید اہلکاروں کو فوجی اعزاز کے ساتھ الوداع کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد خیبر پختونخوا کے 8 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ
یاد رہے کہ گزشتہ روز باجوڑ میں سیلابی صورتحال کے بعد ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں دو پائلٹس اور عملے سمیت پانچ افراد جامِ شہادت نوش کر گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news باجوڑ پاکستان پشاور خیبرپختونخوا نماز جنازہ ہیلی کاپٹر حادثہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: باجوڑ پاکستان پشاور خیبرپختونخوا ہیلی کاپٹر حادثہ ہیلی کاپٹر حادثے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔