گوہر رشید کی والدہ نے زائد العمر میں ٹی وی اسکرین پر قدم رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
پاکستانی شوبز کے اداکار گوہر رشید کی والدہ نے اداکاری کے میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ گوہر رشید کی والدہ، فرزانہ منیر، نے ڈرامہ سیریل "بریانی" کے ذریعے اپنے اداکاری کے کیریئر کا آغاز کیا، جس میں وہ ایک اہم کردار میں نظر آئیں گی۔گوہر نے سوشل میڈیا پر اپنی والدہ کے ساتھ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے جذباتی پوسٹ بھی کی، جس میں بتایا کہ ان کی والدہ نے ڈرامہ "بریانی" کے ذریعے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا ہے۔پوسٹ میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ، اداکارہ کبریٰ خان، شوٹنگ کے پہلے روز جلدی اُٹھ کر اپنی والدہ کو سیٹ پر چھوڑنے گئے۔اداکار نے بتایا کہ ان کی والدہ شوٹنگ کے پہلے روز ایسے گھبرائی ہوئی تھیں جیسے اسکول جاتا ہوا بچہ تاہم سیٹ پر سب نے ان کا بہت خیال رکھا۔گوہر رشید نے اس ڈرامے کے ہدایتکار سمیت تمام کاسٹ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی والدہ کی حوصلہ افزائی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔