اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر ماشاء اللہ شاکری میڈیا سے وقتا فوقتا گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایران کی اوپن اسلامی یونیورسٹی کی نیوز ایجنسی سے پاک ایران تعلقات کے حوالے سے ایک تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اس گفتگو کو اسلام ٹائمز کے قارئین کے لئے دو قسطوں میں پیش کیا جارہا ہے۔ امید ہے یہ انٹرویو قارئین کی معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ ترجمہ: علی واحدی

سوال: براہ کرم ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو گہرا کرنے اور اسکے فروغ کی کیا ضرورت ہے اور اس کی سیاسی و تاریخی وجوہات کیا ہیں؟
سب سے پہلے یہ عرض کروں کہ ہمارے تمام ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، ترکی، عراق، اور افغانستان کے ساتھ عقیدتی، تاریخی اور تہذیبی مشترکات ہیں اور انکے ساتھ ہماری ایک مشترکہ سرحد بھی ہے۔ اسی طرح ہمارا ان ممالک کے ساتھ مفادات اور علاقائی مسائل کے حوالے سے کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ درحقیقت ان میں سے کچھ ممالک اپنے آپ کو اسلام کی تہذیب کی توسیع سمجھتے ہیں، جو قدیم ایران میں بنی تھی اور بعد میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں سمیت دیگر حصوں کو برآمد کی گئی تھی۔

پاکستان کی آزادی کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی آزادی کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک ایران تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت پہلے سے ایک طرح کی قربت اور ہم آہنگی رہی ہے لیکن میں دونوں ملکوں کے تعلقات کی اصل کو ملک پاکستان کے معرض وجود میں آنے کا وقت نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس تاریخ سے بہت پہلے پاکستان کے مشہور شاعر علامہ اقبال لاہوری مرحوم کی شخصیت اور شاعری کو سمجھتا ہوں۔ انکی ملک ایران سے خصوصی دلچسپی تھی۔ ان کا انتقال 1938ء میں ہوا، یعنی پاکستان کی آزادی سے 9 سال پہلے، اور ان سے پہلے، امیر خسرو دہلوی جیسی کئی ایرانی ہستیاں برصغیر پاک و ہند میں مقیم تھیں۔

اسلام سے پہلے کی تاریخ میں بھی بزرگمہر حکیم نے خسرو انوشیروان کی طرف سے ہندوستان کا سفر کیا اور وہاں سے کتاب کلیلہ اور دمنہ ایران لے کر آئے۔ بہرصورت برصغیر پاک و ہند اور ایران کے درمیان ثقافتی تبادلہ بہت مضبوط رہا ہے اور اسلام کے بعد یہ مسئلہ اور شدت اختیار کرگیا اور پاکستان کی آزادی کے بعد ایران اور پاکستان کے درمیان ایک قسم کا شناختی بندھن قائم ہوگیا ہے۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی ضرورت کی بہت ساری وجوہات ہیں۔

سوال: ان تعلقات کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران اور نظام کے سربراہ کی حیثیت سے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کا اسٹریٹیجک نقطہ نظر کیا ہے؟
سب سے پہلے، رہبر انقلاب نے اسقلال ھند "انڈین انڈیپنڈنس" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی کی تشکیل میں مسلمانوں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ حال ہی میں، میں نے ایک اور کتاب دیکھی جس کا نام "سرزمین پاک" ہے جو کہ پاکستان کی سرزمین کے حوالے سے ان کے بیانات کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، اپنے دور صدارت میں ان کا ایک بہت ہی شاندار غیر ملکی دورہ، دورہ پاکستان تھا، جس کا اس ملک کے عوام اور حکومت نے بہت وسیع سطح پر استقبال کیا تھا۔ اس لیے، اول، قائد انقلاب خود ایک برصغیر کے ماہر، دوم، پاکستان کے ماہر، اور سوم، وہ ایک دوراندیش اور بابصیرت شخصیت ہیں۔ لہٰذا سرزمین پاکستان پر ان کی خصوصی توجہ نمایاں ہے۔

دوسری جانب ان کے رہنما اصول یہ ہیں کہ پڑوسیوں کے ساتھ سفارتی تعلقات اعلیٰ ترین سطح پر ہونے چاہئیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پاکستان 240 ملین سے زیادہ آبادی کا ملک ہے، ہمارا سب سے بڑا ہمسایہ اور اہم اسلامی ممالک میں سے ایک ہے۔ اس ملک نے ECO تنظیم جیسی مشترکہ تنظیموں کے قیام کے عمل میں بھی ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے اور بعض بین الاقوامی اداروں جیسے کہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم اور شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی بہت مضبوط موجودگی بین الاقوامی میدان میں ایک بہت اہم، ممتاز اور اسٹریٹیجک حیثیت کی حامل ہے۔ پاکستان خطے کا بااثر کھلاڑی ہے۔

سوال: آپ ایران اور صیہونی حکومت کے درمیان حالیہ 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے ایران اور پاکستان کے تعلقات پر کیا اثرات دیکھتے ہیں؟
پاکستان نے مختلف وجوہات کی بناء پر اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی  بھرپور حمایت کی۔ اس حمایت کا اظہار پہلے عوامی سطح پر اور میڈیا اور دانشوروں کی سطح پر مختلف شکلوں میں ہوا اور پھر حکومت، جماعتوں اور قانون ساز اداروں پارلیمنٹ اور سینیٹ کی سطح پر نمایاں ہوا۔ صیہونی حکومت کے خلاف ہمارے مؤقف کی انتہائی واضح، دانشمندانہ اور مستند انداز میں حمایت کرنے والے ممالک میں سے ایک پاکستان تھا۔ قدرتی طور پر، ایک ایسے ملک کے طور پر جسے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں میں قبول کیا جاتا ہے، ہم نے اس سال مئی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ میں ثالثی کی کوشش کی ہے۔

ہم نے آگ بجھانے کا کردار ادا کیا اور ماحول کو اس طرح نرم کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کے تئیں ہمارے ملک کی خیرسگالی کا بھرپور مظاہرہ ہوا۔ اس واقعے کے بعد جناب شہباز شریف نے شکریہ کے طور پر ہمارے ملک کا دورہ کیا اور 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد ہمارے صدر جناب ڈاکٹر پزشکیان نے کابینہ کے ارکان کی ایک قابل ذکر تعداد کے ساتھ پاکستان کا سفر کیا، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے 12 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ یہ دورہ ایک طرح سے ایران کے لیے پاکستان کی جامع حمایت کے لیے شکریہ اور تعریف بھی تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کے درمیان پاکستان کی آزادی اسلامی جمہوریہ اور پاکستان کے کے حوالے سے ان تعلقات ایران اور سے پہلے کے ساتھ اور اس سے ایک کے بعد

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے