فاروق رحمانی کا پاکستان بھر میں سیلاب سے ہونے والے جان و مال کے نقصان پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں سینئر رہنما حریت کانفرنس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گلوبل وارمنگ اور گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما اورجموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے خیبر پختونخوا اور گلگت و بلتستان سمیت پاکستان بھر میں سیلاب اور موسلادھار بارشوں سے سینکڑوں شہریوں کے جاں بحق ہونے اور دیگر املاک کے تباہ ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد سے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کو گلوبل وارمنگ اور گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت اور امدادی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سیلاب کے متاثرین کو مکمل مدد فراہم کرنے کے لئے ایک جامع منصوبے پر عمل کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارے ملک میں گلوبل وارمنگ سے متعلق اقوام متحدہ کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔