Daily Mumtaz:
2026-07-24@15:17:39 GMT

صحرائی ریت روشنی میں بدل رہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT

صحرائی ریت روشنی میں بدل رہی ہے

 

 

اعتصام الحق

“ریت نہیں سبزہ  آگے بڑھے گا “۔بہتر ماحول کے عزم کی ضامن یہ  سطر  چین کے  نِنگشیا  خود اختیار کا علاقے  چونگ وے  میں ایک منصوبے کے تعارف میں لکھی ہوئی تھی ۔یہ منصوبہ صحرائے تھنگ گے لی میں قائم ہے جہاں دور تک جاتی انسانی نظر صرف شمسی پینلز ہی دیکھ سکتی ہے ۔یہ علاقہ  کبھی تیز آندھیوں اور  ریت کے طوفانوں کے لئے جانا جاتا تھا۔صحرائے تھنگ گے لی    کی   ریت کے طوفان یہاں کی زمین، کھیت اور بستیوں کو ڈھانپ لیتے تھے اور  یہ خطہ بنجر صحرا کا منظر پیش کرتا تھا۔ مگر آج یہ علاقہ ایک نئی پہچان اختیار کر چکا ہے: یہاں ریت کی جگہ سبزہ اگ رہا ہے، شمسی توانائی کے پینل چمک رہے ہیں اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے بڑے بڑے ٹربائن کھڑے ہیں۔

چونگ وے  میں توانائی کے منصوبے صرف چند چھوٹے پلانٹ نہیں بلکہ عالمی پیمانے کے ہیں۔ یہاں گیگاواٹ سطح پر شمسی توانائی اور ہوائی بجلی کے منصوبے قائم کیے گئے ہیں۔ بڑی فیکٹریاں لگائی گئی ہیں جو جدید سولر پینل تیار کرتی ہیں، جبکہ توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بیٹری سسٹم بھی نصب ہیں۔یہ منصوبے نہ صرف صاف بجلی پیدا کر رہے ہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں تک براہِ راست بجلی بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن میں  ننگشیا سے ہونان تک براہِ راست بجلی کی ترسیل کا منصوبہ ایک نمایاں پیش رفت ہے۔

یہ ترقی ماحول دشمن نہیں بلکہ ماحول دوست ہے۔ جب سولر پینل صحرائی علاقوں میں نصب کیے گئے تو ان کے ساتھ “ریت روکنے” اور “درخت اگانے” کے منصوبے بھی شروع کیے گئے۔ شمسی توانائی کے پینل زمین کو ڈھانپ کر ریت کو اڑنے سے روکتے ہیں اور نیچے نمی محفوظ رہتی ہے، جس سے گھاس اور جھاڑیاں اگنے لگتی ہیں۔ یوں بجلی کے ساتھ ساتھ صحرا بھی سبزہ زار میں بدل رہا ہے۔

یہ  نیو انرجی بیس،  چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کمیشن اور  نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے منظور شدہ پہلے  10 ملین کلوواٹ سطح کے  انرجی بیس میں سے ایک ہے ۔ یہ  ننگشیا ہونا ن ڈی سی  منصوبے کا بھی ایک اہم  حصہ ہے   جو کہ چین میں صحرائی فوٹووولٹک بیسز کی ترقی اور نئی توانائی کی ترسیل کے لیے بنائی گئی پہلی الٹرا ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن چینل ہے۔نیشنل انرجی گروپ نے اعلیٰ معیارات اور موثر تعمیر پر عمل کرتے ہوئے،  چودھویں پانچ سالہ  قومی منصوبے  کے دوران 10 ملین کلوواٹ سطح کا  یہ بیس  سب سے تیزی  سے  مکمل کیا، جو کہ ملک بھر میں نئی توانائی بیسز کی جامع ترقی کے لیے ایک مثال ہے۔اس منصوبے کی بدولت جہاں متبادل توانائی کے ذرائع میں اضافہ ہوا ہے وہیں صحرا ذدگی کی روک تمام میں بھی مدد ملی ہے۔

“ننگشیا ہونان ڈی سی منصوبے کی  آلٹرنیٹو  الیکٹرسٹی  کی کل تنصیب شدہ صلاحیت 17.

64 ملین کلوواٹ  ہے ۔ یہ منصوبہ پانچ صوبوں  اور ایک شہر سے گزرتا ہے، جن میں ننگشیا، گانسو، شانزی، چونگ چھنگ ، ہوبئی، اور ہونان شامل ہیں۔اس کی کل لمبائی 1,634 کلومیٹر ہے۔ منصوبے میں نئی توانائی کی کل تنصیب شدہ صلاحیت کا منصوبہ  13 ملین کلوواٹ ہے، جس میں 9 ملین کلوواٹ فوٹووولٹک بجلی کی  پیداوار اور 4 ملین کلوواٹ ونڈ پاور شامل ہیں۔توانائی کے منصوبے صرف بجلی بنانے تک محدود نہیں رہے۔ یہاں پر سولر پینل، بیٹریاں، اور جدید انرجی اسٹوریج سسٹم تیار کرنے والی صنعتیں بھی لگائی گئی ہیں جس سے ہزاروں مقامی لوگوں کو روزگار ملا ہے اور ایک نیا صنعتی سلسلہ وجود میں آیا ہے۔

یہ منصوبے صرف آج کی ضرورت نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت کا حصہ ہیں۔ سبز توانائی کی بدولت نئی صنعتیں مثلاً ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ماحول دوست فیکٹریاں اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبے جنم لے رہے ہیں۔ یہ سب کچھ چین کے اُس بڑے ہدف کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے تحت وہ 2060 تک کاربن نیوٹرل ہونا چاہتا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ  چونگ وے  نے “ریت کو روشنی میں بدل دیا ہے”۔ وہ زمین جو کبھی بنجر اور بے کار سمجھی جاتی تھی، آج دنیا کے سب سے بڑے قابلِ تجدید توانائی کے مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں شمسی پینل سورج کی روشنی کو بجلی میں بدلتے ہیں، ہوا کے ٹربائن مستقبل کے خواب جگاتے ہیں اور ہر طرف ایک نیا سبز انقلاب برپا ہے۔

Post Views: 8

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبہ میں موسلادھار بارشوں، گرج چمک اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔پی ڈی ایم اے کے مطابق 24 سے 27 جولائی تک لاہور سمیت جنوبی اور وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید بارش اور آندھی کا امکان ہے جبکہ لاہور، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق بہاولپور، ملتان، سیالکوٹ، فیصل آباد اور رحیم یار خان میں بھی شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک اور گجرات میں 24 سے26جولائی کے دوران وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کے باعث کمزور ڈھانچوں، سولر پینلز اور بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ادارے نے سیاحوں اور مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، جبکہ کسانوں کو فصلوں اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے، پیشگی انتظامات مکمل کرنے، ڈرینوں کی صفائی، بھاری مشینری کی دستیابی اور مؤثر ایمرجنسی رسپانس یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ