ہلک ہوگن کی موت طبی غلطی کے باعث ہوئی؟ پولیس تحقیقات نئے رخ پر
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
ریسلنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور عالمی شہرت یافتہ ہلک ہوگن کی اچانک موت پر تحقیقات کے دوران نیا رخ سامنے آگیا۔
ابتدائی طور پر اطلاع دی گئی تھی کہ71 سالہ ہلک ہوگن 24 جولائی کو امریکی ریاست فلوریڈا میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے لیکن اب ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ موت طبی غلطی (Medical Malpractice) کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایک تھراپسٹ، جو ہلک ہوگن کے گھر موجود تھے، نے پولیس کو بتایا کہ ایک حالیہ آپریشن کے دوران سرجن نے مبینہ طور پر سانس لینے کے عمل کو کنٹرول کرنے والی Phrenic Nerve کو نقصان پہنچایا تھا۔
اس دعوے کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دیں اور پولیس کی باڈی کیم فوٹیج میں تھراپسٹ کا یہ بیان ریکارڈ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ہلک ہوگن کی تیسری اہلیہ اسکائی ڈیلی نے 21 جولائی کو اس وقت ایمرجنسی سروسز کو کال کی جب وہ سانس لینے میں دشواری کے باعث بے ہوش ہوگئے تھے۔
دوسری جانب ہلک ہوگن کی بیٹی بروک ہوگن نے بھی انسٹاگرام پر مطالبہ کیا کہ پولیس کی باڈی کیم فوٹیج اور 911 کالز عوام کے سامنے لائی جائیں کیونکہ ان کے مطابق یہ شواہد "کہانی بدل سکتے ہیں"۔
بروک نے یہ بھی کہا کہ انہیں باقاعدہ طبی ماہرین کی جانب سے رابطے کیے گئے ہیں جنہوں نے اس معاملے پر مزید چھان بین پر زور دیا ہے۔
خیال رہے کہ ہوگن گزشتہ ایک دہائی میں متعدد سرجریز کروا چکے تھے اور اپنی صحت کے مسائل کے باعث مسلسل علاج میں مصروف تھے۔
تاہم کلیئر واٹر پولیس ڈپارٹمنٹ کا مؤقف ہے کہ ان کی موت قدرتی وجوہات کی بنا پر ہوئی اور کسی قسم کے شواہد مشکوک نہیں پائے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔
Canada has turned into an Indian colony!!!!
Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.
We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7
— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل
اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔
کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا