وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم میں بڑا اسکینڈل، 1011 لیپ ٹاپ غائب ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم فیز-II کے تحت دیے گئے 1,011 لیپ ٹاپ ریکارڈ سے غائب ہیں۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ ان میں سے 784 لیپ ٹاپ برآمد کر لیے گئے ہیں، تاہم 227 لیپ ٹاپ تاحال لاپتہ ہیں۔ اس غفلت سے 12 ملین روپے کا نقصان ہوا ہے، لیکن اب تک ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں پرائم منسٹر اسکیم میں تبدیلی، اب لیپ ٹاپ کیسے ملیں گے؟
ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر 179 لیپ ٹاپس کے ڈیٹا میں مسئلہ تھا، جو اب کم ہو کر 143 رہ گیا ہے۔ فی الحال صرف کراچی اور گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کے کیسز زیرِ جانچ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پرائم منسٹر یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم میں رواں برس اپلائی نہ کر سکنے والے طلبا کے لیے خوشخبری
کمیٹی نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایک ماہ کے اندر تمام لیپ ٹاپ واپس لائے جائیں، بصورت دیگر نقصان کی رقم ذمہ داران سے وصول کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پبلک اکاؤنٹس کمیٹی وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم لیپ ٹاپ اسکیم
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔