جہلم: مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا گرفتار، اکیڈمی سیل
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
جہلم پولیس نے مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا۔ حکام کے مطابق گرفتاری مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) سیکشن 3 کے تحت عمل میں لائی گئی۔ اس اقدام کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق گرفتاری کے ساتھ ساتھ مرزا کی اکیڈمی کو بھی فوری طور پر سیل کر دیا گیا تاکہ کسی بھی عوامی اجتماع یا سرگرمی کو روکا جا سکے۔
انتظامیہ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مختلف مذہبی جماعتوں اور علما کے وفود نے حکام سے ملاقاتیں کیں اور مرزا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ان کے بیانات پر تنازع کھڑا ہوا تھا جس کے باعث عوامی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
انجینئر محمد علی مرزا ایک متنازعہ مذہبی اسکالر سمجھے جاتے ہیں، جو اپنے یوٹیوب لیکچرز اور تحقیقی بیانات کے باعث بڑی تعداد میں فالوورز رکھتے ہیں۔ ان کے ناقدین انہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ حمایتی ان کی گرفتاری کو اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن تصور کر رہے ہیں۔
شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج یا ہنگامے کو روکا جا سکے۔ ضلعی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام محض قانون و امن کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک