مصر کے میوزیم سے 3 ہزار سال قدیم فرعون کے زمانے کا سونے کا کڑا غائب
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
قاہرہ: مصر کی وزارتِ آثارِ قدیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ قاہرہ کے ایجپشن میوزیم کی لیب سے 3 ہزار سال قدیم سونے کا کڑا پراسرار طور پر غائب ہوگیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کڑا فرعون آمنموپ کے دورِ حکمرانی (اکیسویں سلطنت: 1070 تا 945 قبل مسیح) سے تعلق رکھتا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ کڑا آخری بار کب دیکھا گیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق انوینٹری چیک کے دوران اس کی گمشدگی کا انکشاف ہوا لیکن اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی گئی ہے جبکہ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر موجود آثارِ قدیمہ یونٹس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں واقع ایجپشن میوزیم میں ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد قیمتی نوادرات موجود ہیں، جن میں فرعون آمنموپ کا مشہور سنہری ماسک بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب یکم نومبر کو گریٹ ایجپشن میوزیم کے افتتاح کی تیاریاں جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔