قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس: حنا ربانی کھر کا دفتر خارجہ حکام پر اظہار برہمی، بریفنگ مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس حنا ربانی کھر کی زیر صدرات ہوا، چئیر پرسن حنا ربانی کھر نے دفتر خارجہ حکام پر برہمی کا اظہار کیا اور دفتر خارجہ کی بریفنگ کو مسترد کردیا۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ شکریہ کے ساتھ آپ کو یہ بریف واپس کیا جارہا ہے، اگر یہ بریف دینا ہے تو اس کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے یہ تمام چیزیں اخباروں میں پڑھی ہیں، صرف لمبی انگریزی لکھی گئی ہے باقی کچھ نہیں۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ 2 جملوں میں بتایا جائے کہ ایک دورے سے کیا حاصل کیا گیا، قائمہ کمیٹی نے دفتر خارجہ کی بریفنگ کو مسترد کیا۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ اجلاس میں کیوں نہیں آئیں، پارلیمنٹ میں اجلاس مہینے میں ایک مرتبہ ہوتا ہے، ہم نے ایجنڈا آپ کے کہنے پر رکھا اور میٹنگ بھی آپ کے کہنے پر بلائی۔
اب سیکرٹری خارجہ کیوں نہیں آئیں، کنیکٹوٹی کا ایجنڈا آپ کے کہنے پر رکھا لیکن اس پر اتنی کم بریفنگ لائے ہیں، ممبران اپنے حلقے چھوڑ کر آئے ہیں لیکن سیکرٹری خارجہ نہیں آئے۔
انہوں ے کہا کہ تین تین ہفتے ہم میٹنگ کو لیٹ کرتے ہیں لیکن وہ آتے نہیں، آگے سے اگر فارن سیکریٹری موجود نہ ہوئیں تو میٹنگ کو ختم کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حنا ربانی کھر دفتر خارجہ کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز