پاکستان کی امریکی بہو: ’شادی کرکے شوہر کو امریکا لے جانے نہیں بلکہ پاکستان میں رہنے آئی ہوں‘
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
امریکی سماجی کارکن اور فری لانس صحافی کلئیرا اسٹیفن سال 2023 کے وسط میں بطور سیاح چترال آئیں، لیکن مختصر قیام کے دوران ہی انہیں یہاں زندگی کا ایک نیا مقصد مل گیا، جس کے بعد وہ واپس آکر پاکستان میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہو گئیں۔
کلئیرا اسٹیفن سماجی خدمات سے وابستہ ہیں اور خاص طور پر تعلیم کے میدان میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ اپر چترال میں قیام کے دوران ان کی ملاقات مقامی پولو کھلاڑی اور سماجی کارکن انور خان سے ہوئی، جس سے ان کی دوستی ہوئی اور یہ رشتہ آگے بڑھ کر زندگی کے نئے سفر میں بدل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صحافی نے پاکستان آکر چترالی نوجوان سے شادی رچا لی
اس کے بعد کلئیرا اسٹیفن نے پاکستان واپس آکر سماجی کاموں کا آغاز کیا۔ وہ پہلی امریکی نہیں ہیں جنہوں نے پاکستانی نوجوان سے شادی کی ہو۔ سوشل میڈیا اور سیاحت کے ذریعے تعلقات کے بعد ایسی شادیاں عام ہو چکی ہیں، لیکن اکثر خواتین جلد ہی واپس اپنے ملک چلی جاتی ہیں اور شوہر کو بھی ساتھ بلا لیتی ہیں۔
مثال کے طور پر کچھ عرصہ قبل دیر کے ایک نوجوان سے شادی کرنے والی خاتون بھی چند دن بعد اپنے ملک لوٹ گئی تھیں۔ لیکن 31 سالہ کلئیرا اسٹیفن کی کہانی منفرد ہے۔ وہ اپنے شوہر کی ہم عمر ہیں اور پاکستان ہی میں مستقل رہنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
’شوہر کو امریکا لے جانے کے لیے شادی نہیں کی، ہم پاکستان ہی میں رہیں گے‘پہلی بار پاکستان کی سیاحت کے بعد کلئیرا اسٹیفن امریکا واپس چلی گئیں، لیکن انور خان اور اپر چترال سے ان کا تعلق قائم رہا۔ بالآخر 2024 میں انہوں نے بونی (اپر چترال) کے نوجوان انور خان سے شادی کرکے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا اور مئی 2024 میں اسلام آباد واپس پہنچ گئیں۔
کلئیرا اسٹیفن نے اسلام قبول کیا اور انور خان سے نکاح کیا۔ نکاح کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جبکہ شادی کی تقریبات چترالی روایات کے مطابق بونی میں ہوئیں۔ شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے آبائی گھر میں رہائش پذیر ہیں اور دونوں مل کر لائبریری قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ میاں بیوی کے مطابق وہ تعلیم، صحت اور کھیلوں کے میدان میں کام کرکے پسماندہ علاقے کے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔
کلئیرا اسٹیفن کے بقول وہ یہاں مستقل رہنے کے لیے آئی ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔
’تین دن کے لیے آئی تھی، آٹھ ماہ قیام کیا‘انور خان نے بتایا کہ ان کا تعلق سیاحت کے شعبے سے ہے اور بونی میں ان کا ایک گیسٹ ہاؤس ہے، جہاں کلئیرا اسٹیفن پہلی بار بطور سیاح مہمان کے طور پر ٹھہری تھیں۔ ان کا ابتدائی منصوبہ 3 دن کا قیام تھا لیکن یہاں آ کر انہیں چترال سے ایسا لگاؤ پیدا ہوا کہ یہاں قیام کو بڑھا دیا۔
انور خان کے مطابق اس دوران دونوں نے لائبریری کے قیام پر کام شروع کیا اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔ پھر 8 ماہ قیام کے بعد کلئیرا واپس چلی گئیں لیکن رابطہ برقرار رہا۔
انور خان نے بتایا کہ دونوں کی خواہش ہے کہ مختلف علاقوں میں لائبریریاں قائم کی جائیں۔ بونی میں ایک لائبریری قائم ہو چکی ہے اور اب صحت کے شعبے میں تشخیصی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ ہر قسم کی بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔
’یہاں کے لوگوں نے گرویدہ بنا لیا‘کلئیرا اسٹیفن کہتی ہیں کہ وہ پہلی بار بطور سیاح کراچی آئی تھیں لیکن اچانک اپر چترال کا سفر کیا۔ بونی میں قیام کے دوران ان کی ملاقات انور خان سے ہوئی جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگوں کے خلوص اور محبت نے انہیں گرویدہ بنا لیا اور انہیں اپنی زندگی کا اصل مقصد مل گیا، اور اب یہیں رہ کر عوام کی بہبود کے لیے کام کرنا ہے۔ اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اس مقصد کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
کلئیرا کا کہنا ہے کہ جہاں بھی جاتی ہیں لوگ انہیں عزت دیتے ہیں۔ ان کی شادی کو ملکی سطح پر میڈیا میں بھرپور کوریج ملی۔ ان کی خواہش ہے کہ جس طرح انہوں نے اپنی مرضی اور آزادانہ طور پر اپنی زندگی کے فیصلے کیے، اسی طرح چترالی خواتین کو بھی اپنی مرضی سے اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بیک وقت 2 لڑکیوں کی ایک لڑکے سے شادی: ’ایک کو بھگا کر لایا، دوسری خود پہنچ گئی‘
کلئیرا اسٹیفن سماجی کاموں کے ساتھ ساتھ پولو میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں اور شوہر کے میچز دیکھنے پولو گراؤنڈ جاتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کا شوہر پولو کے بین الاقوامی مقابلوں میں نظر آئے اور ملک و قوم کا نام روشن کرے۔ مزید جانیے سراج الدین کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی خاتون صحافی انور خان پیار کی شادی چترال چترالی نوجوان سے شادی سماجی خدمات فلاح و بہبود کے کام کلئیرا اسٹیفن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی خاتون صحافی پیار کی شادی چترال چترالی نوجوان سے شادی سماجی خدمات فلاح و بہبود کے کام وی نیوز نوجوان سے شادی اپنے شوہر اپر چترال ہیں اور قیام کے شوہر کے کے بعد کے لیے کام کر
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک