امریکی سماجی کارکن اور فری لانس صحافی کلئیرا اسٹیفن سال 2023 کے وسط میں بطور سیاح چترال آئیں، لیکن مختصر قیام کے دوران ہی انہیں یہاں زندگی کا ایک نیا مقصد مل گیا، جس کے بعد وہ واپس آکر پاکستان میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہو گئیں۔

کلئیرا اسٹیفن سماجی خدمات سے وابستہ ہیں اور خاص طور پر تعلیم کے میدان میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ اپر چترال میں قیام کے دوران ان کی ملاقات مقامی پولو کھلاڑی اور سماجی کارکن انور خان سے ہوئی، جس سے ان کی دوستی ہوئی اور یہ رشتہ آگے بڑھ کر زندگی کے نئے سفر میں بدل گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صحافی نے پاکستان آکر چترالی نوجوان سے شادی رچا لی

اس کے بعد کلئیرا اسٹیفن نے پاکستان واپس آکر سماجی کاموں کا آغاز کیا۔ وہ پہلی امریکی نہیں ہیں جنہوں نے پاکستانی نوجوان سے شادی کی ہو۔ سوشل میڈیا اور سیاحت کے ذریعے تعلقات کے بعد ایسی شادیاں عام ہو چکی ہیں، لیکن اکثر خواتین جلد ہی واپس اپنے ملک چلی جاتی ہیں اور شوہر کو بھی ساتھ بلا لیتی ہیں۔

مثال کے طور پر کچھ عرصہ قبل دیر کے ایک نوجوان سے شادی کرنے والی خاتون بھی چند دن بعد اپنے ملک لوٹ گئی تھیں۔ لیکن 31 سالہ کلئیرا اسٹیفن کی کہانی منفرد ہے۔ وہ اپنے شوہر کی ہم عمر ہیں اور پاکستان ہی میں مستقل رہنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔

’شوہر کو امریکا لے جانے کے لیے شادی نہیں کی، ہم پاکستان ہی میں رہیں گے‘

پہلی بار پاکستان کی سیاحت کے بعد کلئیرا اسٹیفن امریکا واپس چلی گئیں، لیکن انور خان اور اپر چترال سے ان کا تعلق قائم رہا۔ بالآخر 2024 میں انہوں نے بونی (اپر چترال) کے نوجوان انور خان سے شادی کرکے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیا اور مئی 2024 میں اسلام آباد واپس پہنچ گئیں۔

کلئیرا اسٹیفن نے اسلام قبول کیا اور انور خان سے نکاح کیا۔ نکاح کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جبکہ شادی کی تقریبات چترالی روایات کے مطابق بونی میں ہوئیں۔ شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے آبائی گھر میں رہائش پذیر ہیں اور دونوں مل کر لائبریری قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ میاں بیوی کے مطابق وہ تعلیم، صحت اور کھیلوں کے میدان میں کام کرکے پسماندہ علاقے کے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔

کلئیرا اسٹیفن کے بقول وہ یہاں مستقل رہنے کے لیے آئی ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔

’تین دن کے لیے آئی تھی، آٹھ ماہ قیام کیا‘

انور خان نے بتایا کہ ان کا تعلق سیاحت کے شعبے سے ہے اور بونی میں ان کا ایک گیسٹ ہاؤس ہے، جہاں کلئیرا اسٹیفن پہلی بار بطور سیاح مہمان کے طور پر ٹھہری تھیں۔ ان کا ابتدائی منصوبہ 3 دن کا قیام تھا لیکن یہاں آ کر انہیں چترال سے ایسا لگاؤ پیدا ہوا کہ یہاں قیام کو بڑھا دیا۔

انور خان کے مطابق اس دوران دونوں نے لائبریری کے قیام پر کام شروع کیا اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔ پھر 8 ماہ قیام کے بعد کلئیرا واپس چلی گئیں لیکن رابطہ برقرار رہا۔

انور خان نے بتایا کہ دونوں کی خواہش ہے کہ مختلف علاقوں میں لائبریریاں قائم کی جائیں۔ بونی میں ایک لائبریری قائم ہو چکی ہے اور اب صحت کے شعبے میں تشخیصی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ ہر قسم کی بیماری کی بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔

’یہاں کے لوگوں نے گرویدہ بنا لیا‘

کلئیرا اسٹیفن کہتی ہیں کہ وہ پہلی بار بطور سیاح کراچی آئی تھیں لیکن اچانک اپر چترال کا سفر کیا۔ بونی میں قیام کے دوران ان کی ملاقات انور خان سے ہوئی جو بعد میں محبت میں بدل گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے لوگوں کے خلوص اور محبت نے انہیں گرویدہ بنا لیا اور انہیں اپنی زندگی کا اصل مقصد مل گیا، اور اب یہیں رہ کر عوام کی بہبود کے لیے کام کرنا ہے۔ اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اس مقصد کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

کلئیرا کا کہنا ہے کہ جہاں بھی جاتی ہیں لوگ انہیں عزت دیتے ہیں۔ ان کی شادی کو ملکی سطح پر میڈیا میں بھرپور کوریج ملی۔ ان کی خواہش ہے کہ جس طرح انہوں نے اپنی مرضی اور آزادانہ طور پر اپنی زندگی کے فیصلے کیے، اسی طرح چترالی خواتین کو بھی اپنی مرضی سے اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بیک وقت 2 لڑکیوں کی ایک لڑکے سے شادی: ’ایک کو بھگا کر لایا، دوسری خود پہنچ گئی‘

کلئیرا اسٹیفن سماجی کاموں کے ساتھ ساتھ پولو میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں اور شوہر کے میچز دیکھنے پولو گراؤنڈ جاتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ان کا شوہر پولو کے بین الاقوامی مقابلوں میں نظر آئے اور ملک و قوم کا نام روشن کرے۔ مزید جانیے سراج الدین کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی خاتون صحافی انور خان پیار کی شادی چترال چترالی نوجوان سے شادی سماجی خدمات فلاح و بہبود کے کام کلئیرا اسٹیفن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی خاتون صحافی پیار کی شادی چترال چترالی نوجوان سے شادی سماجی خدمات فلاح و بہبود کے کام وی نیوز نوجوان سے شادی اپنے شوہر اپر چترال ہیں اور قیام کے شوہر کے کے بعد کے لیے کام کر

پڑھیں:

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

اسرائیلی نژاد امریکی صحافی اور محقق ڈاہلیا شائنڈلن نے 9 مئی 2026 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی مثالی نوعیت پر زور دے رہے ہیں، اس سے مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ شاید پسِ پردہ کشیدگی کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ایران کو لے کر امریکا اور اسرائیل کے اہداف بظاہر ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن یہ اہداف سفارت کاری کے ذریعے حاصل کیے جائیں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے، اس پر اختلافات سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی فوجی کارروائیوں سے روک پائیں گے؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکا میں اسرائیل کی حمایت میں کتنی کمی آ رہی ہے؟‘

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تلخ کلامی

امریکا اور ایران کے درمیان تنازعے کے حل میں جوں جوں تاخیر ہو رہی ہے، دونوں جانب اعصابی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ اس تنازعے کی بنیادی وجوہات میں شامل اسرائیلی رویے میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا

غزہ میں نہتے اور معصوم شہریوں کے قتلِ عام کے بعد اسرائیل اب لبنان میں بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کر رہا ہے، جنہیں خطے میں قیامِ امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یورپ پہلے ہی اسرائیل کی فعال فوجی حمایت سے بڑی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے، جبکہ امریکا، جو اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ سمجھا جاتا ہے، اندرونی معاشی دباؤ اور بدلتی ہوئی عوامی رائے کے باعث اب زیادہ عرصے تک اسی سطح کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتا۔

اس تاثر کو تقویت گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی مبیّنہ تلخ کلامی سے ملی۔ اس سے ایک روز قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی کا مطلب تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے تناظر میں ان کا مؤقف تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کے قیام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

بعد ازاں ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’پاگل‘ قرار دیا اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو امریکی سفارتی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سخت لہجے میں پوچھا ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘ جبکہ ایک ذریعے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی صدر نے کہا کہ ’اب سبھی اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں‘۔

اس مبیّنہ تلخ کلامی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ جاری امریکی مذاکرات کو لاحق خطرات کے باعث دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو غیر معمولی حد تک تلخ رہی۔

اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے؟

یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ نیتن یاہو حکومت ایران، حزب اللہ اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سابق سفارت کار اور مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر آرون ڈیوڈ ملر نے جنوری 2026 میں کارنیگی ادارۂ امنِ عالم میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں لکھا کہ ٹرمپ کو نیتن یاہو پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہے جو حالیہ برسوں میں کسی امریکی صدر کو حاصل نہیں رہا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے امریکی ترجیحات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔

کیا امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ رہی ہے؟

راقم الحروف نے اس موضوع پر کئی سفارت کاروں سے گفتگو کی، جن کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر اسرائیلی لابی اب بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فوری طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو جائیں۔ تاہم امریکا میں اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی غیر معمولی ہے، جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

ان کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکا کے لیے اسرائیل کو وہی سطح کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کرنا زیادہ عرصے تک ممکن نہ رہے جو وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات محض 2 رہنماؤں کی ذاتی قربت پر قائم نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شراکت داری، اربوں ڈالر کی فوجی امداد اور خطے میں مشترکہ تزویراتی مفادات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ماہرین اس واقعے کو تعلقات کے خاتمے کے بجائے پالیسی اختلافات کی علامت قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:برازیلی صدر کی اسرائیل کو ہٹلر سے تشبیہ، غزہ پر جنگ نسل کشی قرار

ڈاہلیا شائنڈلن کے مطابق نیتن یاہو جس شدت سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو مثالی قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ خود اس بات کا اشارہ ہے کہ پسِ پردہ تناؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، لبنان اور ایران کے معاملات پر اسرائیلی حکومت کی حکمتِ عملی نہ صرف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ واشنگٹن میں بھی بے چینی پیدا کر رہی ہے۔

کیا اسرائیل امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟

شاید یہی وہ سوال ہے جو آج امریکی خارجہ پالیسی کے حلقوں میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام سے لے کر کئی دہائیوں تک، بلکہ حالیہ برسوں تک، اسرائیل کو امریکا میں تقریباً غیر متنازع حمایت حاصل رہی۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

2024 اور 2025 کے دوران کولمبیا جامعہ، ہارورڈ جامعہ اور کیلیفورنیا جامعہ لاس اینجلس سمیت متعدد امریکی جامعات میں فلسطین کے حق میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں طلبہ نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی مقامات پر پولیس مداخلت اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ ان واقعات نے فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے کو پہلی مرتبہ امریکی داخلی سیاست کے ایک اہم موضوع میں تبدیل کر دیا۔

متعدد جائزوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ نوجوان امریکی ووٹرز، خصوصاً 35 سال سے کم عمر افراد، اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ تنقیدی رویہ رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقوں میں یہ مؤقف مضبوط ہو رہا ہے کہ اسرائیل کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت امریکا کے مفاد میں نہیں۔

جب راقم الحروف نے یہ سوال ایک پاکستانی نژاد امریکی صحافی کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ نوجوان امریکیوں کی ایک بڑی تعداد اسرائیلی پالیسیوں کی ناقد بن چکی ہے، جبکہ 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد اب بھی عمومی طور پر اسرائیل کے زیادہ حامی دکھائی دیتے ہیں۔

اصل مسئلہ اسرائیل ہے یا نیتن یاہو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیشتر ماہرین کے مطابق مسئلہ اسرائیل کا وجود یا امریکا کے ساتھ اس کا اتحاد نہیں، بلکہ نیتن یاہو حکومت کی بعض پالیسیاں ہیں جو واشنگٹن کے لیے سیاسی اور سفارتی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں۔

امریکا میں اسرائیل کی سلامتی کی حمایت اب بھی مضبوط ہے، لیکن غزہ جنگ، لبنان میں کارروائیوں اور ایران کے خلاف سخت مؤقف کے باعث نیتن یاہو حکومت پر تنقید پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ کھل کر کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی مبیّنہ سرزنش محض ایک ٹیلیفونک جھڑپ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے سے دو مختلف تزویراتی نقطۂ نظر کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ ایک جانب واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرکے سفارتی راستہ اپنانا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر قائم ہے۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات ختم تو نہیں ہوں گے، تاہم ان کی نوعیت ضرور تبدیل ہو سکتی ہے، جہاں غیر مشروط حمایت کی جگہ زیادہ مشروط اور محتاط حمایت لے سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا۔ امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ سرزنش نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال