بھارت کے دریائے راوی پر قائم مادھوپور ہیڈ ورکس کی خرابی کے باعث پاکستان کے زیریں علاقوں خصوصاً لاہور میں شدید اور مسلسل سیلابی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب شدید سیلاب کی لپیٹ میں، متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز

انگریزی اخبار میں شائع منور حسن کی رپورٹ کے مطابق، بھارت نے نہ تو پاکستان کو بروقت آگاہ کیا اور نہ ہی راوی ہیڈ ورکس کے تکنیکی مسئلے کے بارے میں حکام کو اطلاع دی۔

پانی کی غیر متوقع چھوڑائی

رپورٹس کے مطابق مادھوپور ہیڈ ورکس کے چار فلڈ گیٹس اچانک ناکام ہو گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے اور وسیع زرعی رقبہ ڈوب گیا۔

کئی دہائیوں کی غفلت کے باعث ہیڈ ورکس کے 54 فلڈ گیٹس میں بمشکل کوئی جدید اپ گریڈیشن کی گئی ہے۔

لاہور میں بڑے پیمانے پر تباہی

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دریائے راوی میں پانی کی مقدار شاہدرہ کے مقام پر 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی، جس نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا اور کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق جمعرات کی شب تک غیر معمولی بلند سطح کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحران بھارت کے مادھوپور ہیڈ ورکس سے قابو سے باہر پانی کے اخراج کا نتیجہ ہے جس نے لاہور کے رہائشیوں کے لیے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا۔

بھارتی حکام کی تنقید

مقامی بھارتی حکام نے بھی اس کو ’انتہائی غفلت‘ قرار دیا اور کہا کہ دیکھ بھال پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مرمت نہایت تاخیر کا شکار ہے اور اسے صرف پانی اترنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

موجودہ صورتحال میں 55 ہزار کیوسک پانی پاکستان میں داخل ہو رہا ہے۔

سندھ طاس معاہدہ اور مستقبل کے خدشات

سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ بروقت سیلابی ڈیٹا کا تبادلہ کریں تاکہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

اس بحران نے ایک بار پھر اس معاہدے پر سختی سے عملدرآمد اور موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

مزید بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان فوری مذاکرات ناگزیر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہیڈ ورکس

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا