Express News:
2026-06-03@06:20:28 GMT

پاکستان بنگلہ دیش تعلقات کا نیا عہد

اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT

تاریخ کے صفحات میں کئی ایسے لمحے چھپے ہیں جو نہ صرف قوموں کی یادوں میں نقش رہ جاتے ہیں بلکہ ان کے تعلقات کی سمت بھی متعین کرتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، جو قربانی، جدوجہد اور تلخیوں کا مرکب ہے۔ 1971 کے المناک واقعات نے دونوں قوموں کے دلوں میں فاصلے ڈال دیے، لیکن آج ایک ایسا سنہری موقع پیدا ہوا ہے جسے ضایع کرنا شاید تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

دنیا ایک نئے عالمی منظرنامے کی طرف بڑھ رہی ہے، خطے کی معیشتیں بدل رہی ہیں اور عوام کی توقعات بھی بلند ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو ایک طرف رکھ کر بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوارکرے، تاکہ دونوں ممالک نہ صرف اپنی ترقی کی رفتار تیز کریں بلکہ خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکیں۔

گزشتہ کچھ برسوں میں بنگلہ دیش نے معاشی میدان میں حیران کن ترقی کی ہے۔ 1971ء میں جس ملک کو غربت اور تباہی کا شکار سمجھا جاتا تھا، وہ آج خطے کی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ بنگلہ دیش کا جی ڈی پی 2024ء میں تقریباً 460 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جب کہ اس کی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہے جو سالانہ 50 بلین ڈالر سے زائد کما رہی ہے۔

تعلیم، صحت اور خواتین کی ترقی کے شعبوں میں بھی بنگلہ دیش نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک کی رپورٹس اس بات کی گواہ ہیں کہ بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جو غربت میں تیزی سے کمی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان اس وقت سیاسی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سیکیورٹی چیلنجزکا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط تجارتی اور سفارتی تعلق پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی فائدہ دے سکتا ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ڈھاکہ نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔

چین کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات بھی مضبوط ہیں، اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شمولیت نے اسے مزید اہمیت دی ہے۔ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کئی برسوں سے غیر فعال ہے، مگر اگر پاکستان اور بنگلہ دیش قریب آتے ہیں تو اس تنظیم کو دوبارہ فعال کرنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ وقت اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ عالمی سطح پر طاقتوں کی صف بندی تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکا، چین اور روس کے درمیان جاری کشمکش میں جنوبی ایشیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ خلیجی ممالک بھی بنگلہ دیش کی افرادی قوت اور اس کی برآمدات کے بڑے خریدار ہیں، اگر پاکستان اور بنگلہ دیش مل کر مشترکہ حکمتِ عملی اختیارکریں تو وہ خلیجی اور ایشیائی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کو بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت توانائی بحران اور لاگت میں اضافے کے سبب مشکلات کا شکار ہے، جب کہ بنگلہ دیش اس شعبے میں دنیا بھر میں اپنی برآمدات بڑھا رہا ہے۔ دونوں ممالک اگر ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو یہ باہمی ترقی کا باعث بن سکتا ہے۔

دنیا کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بڑے سے بڑا زخم بھی وقت اور سنجیدہ اقدامات سے بھر سکتا ہے۔ جرمنی اور فرانس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دے کر پورے یورپ میں امن و ترقی کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح جاپان اور امریکا کے تعلقات بھی جنگ کے بعد دشمنی سے دوستی میں بدلے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے پاس بھی یہی موقع ہے کہ وہ ماضی کی دیواریں گرا کر نئے تعلقات کی عمارت کھڑی کریں۔ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کو بھی بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، دونوں ممالک کے عوام زبان، مذہب اور روایات میں بہت سی مماثلت رکھتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں آج بھی بڑی تعداد میں ایسے خاندان ہیں جن کے رشتے پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر طلبہ کے تبادلے، ادبی میلوں اور ثقافتی وفود کا تبادلہ بڑھایا جائے تو یہ فاصلے کم ہو سکتے ہیں۔کھیلوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقعے ہیں۔ کرکٹ دونوں ملکوں میں بے حد مقبول ہے اور مشترکہ سیریز عوامی سطح پر تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

موجودہ حالات میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان اپنی معاشی مشکلات کے سبب نئے تجارتی شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اہم ہیں، لیکن ان پر انحصارکم کر کے متنوع تعلقات قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

بنگلہ دیش کے ساتھ مشترکہ انڈسٹریل زونز، شپنگ اور پورٹ تعاون اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر پاکستان اپنی زرعی اجناس اور فارماسیوٹیکل مصنوعات بنگلہ دیشی مارکیٹ تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

بنگلہ دیش اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ہے۔ سمندری سطح کے بڑھنے اور قدرتی آفات کی وجہ سے اس ملک کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ہے، جیسا کہ حالیہ 2022ء کے سیلاب نے ثابت کیا جس سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے تھے۔

دونوں ممالک اگر کلائمیٹ چینج پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں تو وہ نہ صرف اپنی عوام کی حفاظت کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط آواز بھی بن سکتے ہیں۔ کوئی بھی ملک اکیلا ترقی نہیں کر سکتا۔

پاکستان کو ایران، ترکی، سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات کی طرح بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تعلقات میں نئی روح پھونکنی چاہیے۔ اس عمل کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اعلیٰ سطح وفود کا تبادلہ کیا جائے اور تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوں۔اگرچہ ماضی کے زخم گہرے ہیں لیکن تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مستقبل کی تعمیر صرف مفاہمت، تعاون اور عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے مشرقی پڑوسی کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر نہ صرف اپنی معیشت کو سہارا دے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرے۔ یہ وقت ہے کہ دونوں ممالک دلوں کے فاصلے کم کریں اور ایک دوسرے کی ترقی میں شراکت دار بنیں۔اقدامات کے طور پر پاکستان کو چاہیے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی اور تعلیمی معاہدے کرے، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کرے، کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کا تبادلہ بڑھائے اور سفارتی تعاون کو فروغ دے۔

اسی طرح دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی چیلنجز، غربت کے خاتمے اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں۔ اگر یہ سب اقدامات سنجیدگی سے کیے جائیں تو پاکستان اور بنگلہ دیش نہ صرف اپنے عوام کے لیے خوشحالی لا سکتے ہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو آنیوالے برسوں میں خطہ نہ صرف خوشحال ہوگا بلکہ دونوں ممالک کی نئی نسل بھی ایک روشن کل کی جانب بڑھ سکے گی۔ یہی وقت ہے، یہی موقع ہے اور یہی پاکستان کے لیے مستقبل کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کے لیے کے ساتھ تعلقات جنوبی ایشیا دونوں ممالک اگر پاکستان تعلقات کی تعلقات کو ایک دوسرے سکتے ہیں سکتا ہے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد