Express News:
2026-07-24@07:38:35 GMT

پاکستان بنگلہ دیش تعلقات کا نیا عہد

اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT

تاریخ کے صفحات میں کئی ایسے لمحے چھپے ہیں جو نہ صرف قوموں کی یادوں میں نقش رہ جاتے ہیں بلکہ ان کے تعلقات کی سمت بھی متعین کرتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، جو قربانی، جدوجہد اور تلخیوں کا مرکب ہے۔ 1971 کے المناک واقعات نے دونوں قوموں کے دلوں میں فاصلے ڈال دیے، لیکن آج ایک ایسا سنہری موقع پیدا ہوا ہے جسے ضایع کرنا شاید تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔

دنیا ایک نئے عالمی منظرنامے کی طرف بڑھ رہی ہے، خطے کی معیشتیں بدل رہی ہیں اور عوام کی توقعات بھی بلند ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو ایک طرف رکھ کر بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوارکرے، تاکہ دونوں ممالک نہ صرف اپنی ترقی کی رفتار تیز کریں بلکہ خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے بھی ایک مثال قائم کر سکیں۔

گزشتہ کچھ برسوں میں بنگلہ دیش نے معاشی میدان میں حیران کن ترقی کی ہے۔ 1971ء میں جس ملک کو غربت اور تباہی کا شکار سمجھا جاتا تھا، وہ آج خطے کی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ بنگلہ دیش کا جی ڈی پی 2024ء میں تقریباً 460 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جب کہ اس کی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہے جو سالانہ 50 بلین ڈالر سے زائد کما رہی ہے۔

تعلیم، صحت اور خواتین کی ترقی کے شعبوں میں بھی بنگلہ دیش نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک کی رپورٹس اس بات کی گواہ ہیں کہ بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جو غربت میں تیزی سے کمی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان اس وقت سیاسی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سیکیورٹی چیلنجزکا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط تجارتی اور سفارتی تعلق پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی فائدہ دے سکتا ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ڈھاکہ نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے۔

چین کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات بھی مضبوط ہیں، اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شمولیت نے اسے مزید اہمیت دی ہے۔ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کئی برسوں سے غیر فعال ہے، مگر اگر پاکستان اور بنگلہ دیش قریب آتے ہیں تو اس تنظیم کو دوبارہ فعال کرنے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے یہ وقت اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ عالمی سطح پر طاقتوں کی صف بندی تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکا، چین اور روس کے درمیان جاری کشمکش میں جنوبی ایشیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ خلیجی ممالک بھی بنگلہ دیش کی افرادی قوت اور اس کی برآمدات کے بڑے خریدار ہیں، اگر پاکستان اور بنگلہ دیش مل کر مشترکہ حکمتِ عملی اختیارکریں تو وہ خلیجی اور ایشیائی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات کو بہتر انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت توانائی بحران اور لاگت میں اضافے کے سبب مشکلات کا شکار ہے، جب کہ بنگلہ دیش اس شعبے میں دنیا بھر میں اپنی برآمدات بڑھا رہا ہے۔ دونوں ممالک اگر ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو یہ باہمی ترقی کا باعث بن سکتا ہے۔

دنیا کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ بڑے سے بڑا زخم بھی وقت اور سنجیدہ اقدامات سے بھر سکتا ہے۔ جرمنی اور فرانس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو فروغ دے کر پورے یورپ میں امن و ترقی کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح جاپان اور امریکا کے تعلقات بھی جنگ کے بعد دشمنی سے دوستی میں بدلے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے پاس بھی یہی موقع ہے کہ وہ ماضی کی دیواریں گرا کر نئے تعلقات کی عمارت کھڑی کریں۔ثقافتی اور تعلیمی تعلقات کو بھی بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، دونوں ممالک کے عوام زبان، مذہب اور روایات میں بہت سی مماثلت رکھتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں آج بھی بڑی تعداد میں ایسے خاندان ہیں جن کے رشتے پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر طلبہ کے تبادلے، ادبی میلوں اور ثقافتی وفود کا تبادلہ بڑھایا جائے تو یہ فاصلے کم ہو سکتے ہیں۔کھیلوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقعے ہیں۔ کرکٹ دونوں ملکوں میں بے حد مقبول ہے اور مشترکہ سیریز عوامی سطح پر تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

موجودہ حالات میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان اپنی معاشی مشکلات کے سبب نئے تجارتی شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔ چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اہم ہیں، لیکن ان پر انحصارکم کر کے متنوع تعلقات قائم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

بنگلہ دیش کے ساتھ مشترکہ انڈسٹریل زونز، شپنگ اور پورٹ تعاون اور زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر پاکستان اپنی زرعی اجناس اور فارماسیوٹیکل مصنوعات بنگلہ دیشی مارکیٹ تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

بنگلہ دیش اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ہے۔ سمندری سطح کے بڑھنے اور قدرتی آفات کی وجہ سے اس ملک کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ہے، جیسا کہ حالیہ 2022ء کے سیلاب نے ثابت کیا جس سے تقریباً 33 ملین افراد متاثر ہوئے تھے۔

دونوں ممالک اگر کلائمیٹ چینج پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں تو وہ نہ صرف اپنی عوام کی حفاظت کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط آواز بھی بن سکتے ہیں۔ کوئی بھی ملک اکیلا ترقی نہیں کر سکتا۔

پاکستان کو ایران، ترکی، سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات کی طرح بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تعلقات میں نئی روح پھونکنی چاہیے۔ اس عمل کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اعلیٰ سطح وفود کا تبادلہ کیا جائے اور تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوں۔اگرچہ ماضی کے زخم گہرے ہیں لیکن تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مستقبل کی تعمیر صرف مفاہمت، تعاون اور عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے مشرقی پڑوسی کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر نہ صرف اپنی معیشت کو سہارا دے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرے۔ یہ وقت ہے کہ دونوں ممالک دلوں کے فاصلے کم کریں اور ایک دوسرے کی ترقی میں شراکت دار بنیں۔اقدامات کے طور پر پاکستان کو چاہیے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی اور تعلیمی معاہدے کرے، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کرے، کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کا تبادلہ بڑھائے اور سفارتی تعاون کو فروغ دے۔

اسی طرح دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی چیلنجز، غربت کے خاتمے اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں۔ اگر یہ سب اقدامات سنجیدگی سے کیے جائیں تو پاکستان اور بنگلہ دیش نہ صرف اپنے عوام کے لیے خوشحالی لا سکتے ہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کر سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو آنیوالے برسوں میں خطہ نہ صرف خوشحال ہوگا بلکہ دونوں ممالک کی نئی نسل بھی ایک روشن کل کی جانب بڑھ سکے گی۔ یہی وقت ہے، یہی موقع ہے اور یہی پاکستان کے لیے مستقبل کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے ساتھ پاکستان کے لیے کے ساتھ تعلقات جنوبی ایشیا دونوں ممالک اگر پاکستان تعلقات کی تعلقات کو ایک دوسرے سکتے ہیں سکتا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم