روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری کیلئے آئندہ ماہ کے وسط تک فنانشل ایڈوائزر مقرر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری کیلئے آئندہ ماہ کے وسط تک فنانشل ایڈوائزر مقرر کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 August, 2025 سب نیوز
واشنگٹن(آئی پی ایس )وفاقی حکومت نے نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کیلئے آئندہ ماہ (ستمبر) کے وسط تک فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کا عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی حکومت نے روزویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری کے حوالے سے نئے فنانشل ایڈوئزر کی تقرری کیلئے خواہشمند پارٹیوں سے درخواستیں طلب کررکھی ہیں اور اس کیلئے 2 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے جو کہ اگلے چند میں ختم ہوجائے گی۔
دستاویز میں بتایا گیا کہ 2 ستمبر تک ٹینیکل اور فنانشل تجاویز جمع کروانا ہونگی اس کے بعد ستمبر کے وسط تک نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔نئے تعینات ہونے والے فنانشل ایڈوائزر روز ویلٹ ہوٹل نیو یارک کی نجکاری کے حوالے سے کئے جانے والے پچھلے ڈیو ڈیلیجنس اور ٹرانزیکشن اسٹرکچر رپورٹس کا جائزہ لے کر نظر ثانی کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو اسے اپ ڈیٹ کریں گے۔
پچھلی رپورٹس کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد روزویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری کیلئے مارکیٹنگ کا عمل شروع کیا جائے گا اور روزویلٹ ہوٹل نیو یارک کی نجکاری میں دلچسپی میں رکھنے والی پارٹیوں و سرمایہ کاروں کی پری کوالیفکیشن اور ان سے مذاکرات کیے جائیں گے جس کے بعد نیلامی کا پراسیس کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایس آئی ایف سی اور ای سی سی کا اہم اقدام، توانائی کے شعبے میں تاریخی پیشرفت اگلی خبرانسداد دہشتگردی عدالت نے بھارتی دہشتگرد افغان شہری کو قید کی سزا سنا دی انسداد دہشتگردی عدالت نے بھارتی دہشتگرد افغان شہری کو قید کی سزا سنا دی ایس آئی ایف سی اور ای سی سی کا اہم اقدام، توانائی کے شعبے میں تاریخی پیشرفت شہباز شریف اہم دورے پر چین پہنچ گئے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت کریں گے اسلام آباد کو سیاحتی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کے لیے متعدد منصوبے زیر غور تباہ کن سیلابی صورتحال، پاکستان غذائی بحران کی دہلیز پر،گندم، چاول، کپاس، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ,پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اسلام آبادکا ہنگامی اجلاس بعض عناصرکی طرف سے وزیر صحت کے خلاف میڈیا پروپگنڈہ کی شدید مذمتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ویلٹ ہوٹل نیویارک کی نجکاری فنانشل ایڈوائزر کی نجکاری کیلئے روز ویلٹ ہوٹل کے وسط تک
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم