سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے بین الاقوامی شراکت داروں سے مدد کیلئے وفاق سے تعاون مانگ لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے تناظر میں وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں سے تعاون حاصل کرنے میں صوبے کی مدد کرے۔
اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے وفاق کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے معاونت کے لیے رابطے میں وفاق رہنمائی اور سہولت فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا سیلاب: پاک فوج کا ایک دن کا راشن، تنخواہ متاثرین کے لیے وقف
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے مسلسل متاثر ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی خواہش مند ہے اور چاہتی ہے کہ عالمی ترقیاتی ادارے بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں میں شریک ہوں۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اداروں سے واٹر مینجمنٹ اور ارلی وارننگ سسٹم کے قیام میں مدد طلب کی جائے، ساتھ ہی کمزور کمیونٹیز کو سہارا دے کر صوبے کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے۔
دستاویز کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب نے خیبر پختونخوا کو 20 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا۔ فوری امدادی سرگرمیوں پر 6.
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آپ کو کس قسم کی مدد چاہیے؟
خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی مالی معاونت کا عمل شروع کر دیا ہے۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20، 20 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 5، 5 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دکانوں کو پہنچنے والے نقصانات کو بھی معاوضہ پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بین الاقوامی شراکت دار خیبرپختونخوا حکومت سیلاب متاثرین علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وفاق سے تعاون مانگ لیا وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی شراکت دار خیبرپختونخوا حکومت سیلاب متاثرین علی امین گنڈاپور وزیراعلی خیبرپختونخوا وفاق سے تعاون مانگ لیا وی نیوز بین الاقوامی گیا ہے کہ حکومت نے کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔