راولپنڈی؛ ڈینگی لاروا برآمد کرنیکی دھمکیاں دیکر بلیک میل، رشوت لینے والا سرکاری افسر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
راولپنڈی میں ڈینگی لاروا برآمد کرنے کی دھمکیاں دے کر شہریوں کو بلیک میل اور رشوت طلب کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
اینٹی کرپشن راولپنڈی نے محکمہ ہیلتھ پنجاب کے سینٹری انسپکٹر عمران اصغر کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
مجسٹریٹ سید علی جواد نقوی کی نگرانی میں کنٹونمنٹ بورڈ دفتر کے باہر چھاپہ مارا گیا جبکہ کارروائی کے دوران انسپکٹر کی جیب سے نشان زدہ 20 ہزار روپے برآمد ہوئے۔
ایف آئی آر کے مطابق انسپکٹر کلینک مالک عمران مغل سے ڈینگی لاروا برآمد کرنے اور مقدمہ درج کرانے کی دھمکیاں دے کر ڈیڑھ لاکھ روپے کا مطالبہ کرتا رہا۔
متاثرہ کلینک مالک نے ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو درخواست دی جس پر ٹریپ ریڈ کروایا گیا۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف انسداد رشوت ستانی ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔