پاکستان اور چینی سرمایہ کار ملکر نئی راہیں کھول سکتے ہیں، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر پرعزم ہے اور چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ ہم مل کر نئی راہیں کھول سکتے ہیں جو ہماری معیشت کو مستحکم اور مالی تعاون کو مزید گہرا کریں گی۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج بیجنگ میں ہونگتا سیکورٹیز کے چیئرمین جِنگ فینگ سے اہم ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی حالیہ معاشی کارکردگی پر روشنی ڈالی اور حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پائیدار اور شمولیتی اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سینیٹر اورنگزیب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز پاکستان کی معاشی صورتحال پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔
انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، جس میں موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ Caa2 سے بڑھا کر Caa1 (مستحکم آؤٹ لک)، فچ نے CCC+ سے B- (مستحکم آؤٹ لک)، اور اسٹینڈرڈ اینڈ پورز (ایس اینڈ پی) نے بھی CCC+ سے B- (مستحکم آؤٹ لک) تک اپ گریڈ کیا ہے۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے کیپیٹل مارکیٹس میں تعاون کے فروغ اور پاکستان و چین کے مالیاتی شعبے کے روابط کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنے مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے اور عالمی و چینی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو مزید گہرا کرنے پر کام کر رہا ہے۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر پرعزم ہے اور چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ ہم مل کر نئی راہیں کھول سکتے ہیں جو ہماری معیشت کو مستحکم اور مالی تعاون کو مزید گہرا کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اورنگزیب نے کو مزید
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔