چینی صدر نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
بیجنگ:
شنگھائی تعاون تنظم پلس کا اجلاس چین کے شہر تھیانجن میں منعقد ہوا۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے اجلاس کی صدارت کی اور اہم خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی طرف مشترکہ طور پر آگے بڑھےگا۔پیر کے روز.
شی جن پھنگ نے کہا کہ گزشتہ 24 برسوں سے شنگھائی تعاون تنظیم نے “شنگھائی اسپرٹ” پر قائم رہتے ہوئے عالمی حکمرانی کے متعدد نئے تصورات پیش کئے اور بتدریج عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیر و اصلاحات کے سلسلے میں اہم قوت بن گئی ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر شنگھائی تعاون تنظیم کو قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے فعال طور پر گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم “بیلٹ اینڈ روڈ” کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دینا جاری رکھیں گے۔ چین، چین شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت توانائی، سبز صنعت اور ڈیجیٹل معیشت کے تعاون کے تین پلیٹ فارمز قائم کرے گا اور سائنس و ٹیکنالوجی جدت طرازی، اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم میں تعاون کے تین مراکز قائم کرے گا۔ چین مصنوعی ذہانت کے اطلاق کے لئے تعاون کے مرکز کی تعمیر اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے فوائد کا تمام فریقوں کے ساتھ اشتراک کرنے کے لئے تیار ہے۔چین تمام فریقوں کو بیڈو سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم استعمال کرنے کے لئے خوش آمدیدکہتا ہے اور اہل ممالک کو بین الاقوامی قمری ریسرچ اسٹیشن کی تعمیر میں حصہ لینے کے لئے مدعوکرےگا.
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور فسطائیت مخالف عالمی جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ منانے کے لئے بیجنگ میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد کرے گا۔ چین دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کے درست نقطہ نظر کو آگے بڑھانے اور دوسری جنگ عظیم کی فتح کے ثمرات کا مضبوطی سے تحفظ کرنے کے لئے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
Post Views: 6
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون کی تعمیر کے لئے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔