معرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک باوقار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا۔

دشمن کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف جُرأت مندانہ اور مؤثر جواب نے پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنایا، معرکہ حق کے دوران پاکستان کا کردار خطے کے امن کے لیے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔

اس کامیابی کے بعد حکومت و عسکری قیادت نے مل کر عالمی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو اجاگر کیا، اہم ممالک کے دوروں کے ذریعے دفاعی، معاشی اور تزویراتی شراکت داریوں کو نئی جہت دی گئی۔

امریکہ نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ملک قرار دیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امریکہ کے دو اہم دوروں کے دوران وائٹ ہاؤس میں ان کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت دی گئی۔

امریکی صدر نے   ٹروتھ سوشل پر کہا کہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے  جس کے تحت پاکستان اور امریکہ اپنے تیل کے بڑے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

30جون 2025 کو  امریکی صدر  کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت بہت مضبوط ہے۔

عسکری قیادت کی امریکی عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں اعتماد سازی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کے نئے امکانات کی عکاس ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا  نے  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی  فوجی تعاون مضبوط بنانے میں ان کے کردار کی تعریف بھی  کی۔

5جون 2025 کو امریکی ناظم العمور نٹالے اے بیکر  نے  ایک بیان میں کہا کہ " 1947 سے ہمارے تعلقات دوستی سے پارٹنرشپ تک بڑھے ہیں، گزشتہ  78 سالوں میں امریکہ اور پاکستان نے ان نظریات کو زندہ کرنے کے لیے شانہ بشانہ کام کیا ہے۔

حکومتی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کئی اہم غیر ملکی دورے کیے، 25 مئی 2025 کو وزیراعظم نے استنبول میں ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی اور علاقائی سلامتی و انسداد دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا۔

 ملاقات میں عزم  کیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ ہمہ جہتی تعاون کو مزید فروغ دیں گے، پاکستان اور ایران کے درمیان وسیع البنیاد تعاون کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان نے 26 مئی کو ایران اور ایرانی صدر نے 3 اگست کو پاکستان کا دورہ کیا۔

27 اور 28 مئی کو وزیراعظم نے آذربائیجان کا دورہ کیا، جہاں توانائی، بنیادی ڈھانچے اور دفاعی تعاون پر معاہدے ہوئے، 29 اور 30 مئی کو وزہراعظم تاجکستان میں گلیشیئر کانفرنس میں شریک ہوئے اور تجارت، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو ہوئی۔

5 سے 12 جون تک وزیراعظم نے سعودی عرب اور  متحدہ عرب امارات کا  دورہ کیا، جس میں معاشی تعلقات اور سرمایہ کاری زیر غور رہے، 30 اور 31 جولائی کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی تجارتی معاہدہ طے پایا۔

امریکہ کے ساتھ معاہدے  میں تیل کے ذخائر کی ترقی، ٹیرف میں کمی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں تعاون شامل تھا، 14 اگست کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ساتھ اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف اس وقت چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شریک ہیں، تیانجن میں وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر سے بھی ملاقات ہوئی جبکہ دیگر اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا، 20 اگست 2025 کو نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کابل میں چھٹی سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی۔

افغانستان اور چین کے وزیرِ خارجہ نے افغانستان کی بحالی اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، 23 اور 24 اگست کو نائب  وزیراعظم اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کا تاریخی دورہ کیا، جو 2012 کے بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا۔

انہوں نے چیف ایڈوائزر محمد یونس اور خارجہ امور کے مشیر توحید حسین سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت کی، بنگلہ دیش کا یہ دورہ دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا گیا۔

 بلاول بھٹو زرداری نے بھی عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، 30 مئی سے 9 جون 2025 تک بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ میں اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے وفد کے ہمراہ بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور پاکستان کے موقف کو مضبوط انداز میں پیش کیا، انہوں نے  10 جون کو لندن میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ اور برسلز میں یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات میں  پاکستان کے سفارتی نقطہ نظر پر بریفنگ دی۔

یہ سفارتی دورے پاکستان کے مؤقف کو یورپی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے، جون میں پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے منسلک دو اہم کمیٹیوں میں کلیدی عہدے بھی دیئے گئے۔

پاکستان کی بہترین   حکومتی اور عسکری ڈپلومیسی کے باعث بھارت کی باکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی  کوششیں ناکام ہوئیں۔

پاکستان نے اپنی عسکری قوت اور سفارتی حکمتِ عملی کے امتزاج سے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ پاکستان  ایک ذمہ دار، امن دوست اور علاقائی استحکام لانے والا ملک ہے، پاکستان اپنی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

حکومت اور عسکری قیادت  کی مربوط حکمتِ عملی نے پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط بنایا  اور دنیا کو پاکستان کی قربانیوں، بصیرت اور وژن کو تسلیم کرنے پر راغب کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان اور پاکستان کے پاکستان کا کہ پاکستان نے پاکستان پاکستان کو پاکستان کی سے ملاقات دورہ کیا کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ