معرکہ حق میں کامیابی، پاکستان کا ابھرتا ہوا عالمی تشخص اور سفارتی کامیابیاں
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
معرکہ حق میں کامیابی نے پاکستان کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک باوقار اور ذمہ دار ریاست کے طور پر منوایا۔
دشمن کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف جُرأت مندانہ اور مؤثر جواب نے پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنایا، معرکہ حق کے دوران پاکستان کا کردار خطے کے امن کے لیے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔
اس کامیابی کے بعد حکومت و عسکری قیادت نے مل کر عالمی سطح پر پاکستان کے بیانیے کو اجاگر کیا، اہم ممالک کے دوروں کے ذریعے دفاعی، معاشی اور تزویراتی شراکت داریوں کو نئی جہت دی گئی۔
امریکہ نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ایک امن پسند اور ذمہ دار ملک قرار دیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے امریکہ کے دو اہم دوروں کے دوران وائٹ ہاؤس میں ان کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت دی گئی۔
امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت پاکستان اور امریکہ اپنے تیل کے بڑے ذخائر کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
30جون 2025 کو امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت بہت مضبوط ہے۔
عسکری قیادت کی امریکی عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں اعتماد سازی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کے نئے امکانات کی عکاس ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فوجی تعاون مضبوط بنانے میں ان کے کردار کی تعریف بھی کی۔
5جون 2025 کو امریکی ناظم العمور نٹالے اے بیکر نے ایک بیان میں کہا کہ " 1947 سے ہمارے تعلقات دوستی سے پارٹنرشپ تک بڑھے ہیں، گزشتہ 78 سالوں میں امریکہ اور پاکستان نے ان نظریات کو زندہ کرنے کے لیے شانہ بشانہ کام کیا ہے۔
حکومتی سطح پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کئی اہم غیر ملکی دورے کیے، 25 مئی 2025 کو وزیراعظم نے استنبول میں ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کی اور علاقائی سلامتی و انسداد دہشت گردی پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں عزم کیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ ہمہ جہتی تعاون کو مزید فروغ دیں گے، پاکستان اور ایران کے درمیان وسیع البنیاد تعاون کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان نے 26 مئی کو ایران اور ایرانی صدر نے 3 اگست کو پاکستان کا دورہ کیا۔
27 اور 28 مئی کو وزیراعظم نے آذربائیجان کا دورہ کیا، جہاں توانائی، بنیادی ڈھانچے اور دفاعی تعاون پر معاہدے ہوئے، 29 اور 30 مئی کو وزہراعظم تاجکستان میں گلیشیئر کانفرنس میں شریک ہوئے اور تجارت، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو ہوئی۔
5 سے 12 جون تک وزیراعظم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جس میں معاشی تعلقات اور سرمایہ کاری زیر غور رہے، 30 اور 31 جولائی کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک تاریخی تجارتی معاہدہ طے پایا۔
امریکہ کے ساتھ معاہدے میں تیل کے ذخائر کی ترقی، ٹیرف میں کمی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں تعاون شامل تھا، 14 اگست کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ساتھ اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اس وقت چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شریک ہیں، تیانجن میں وزیراعظم شہباز شریف کی ترک صدر سے بھی ملاقات ہوئی جبکہ دیگر اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا، 20 اگست 2025 کو نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کابل میں چھٹی سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی۔
افغانستان اور چین کے وزیرِ خارجہ نے افغانستان کی بحالی اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، 23 اور 24 اگست کو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کا تاریخی دورہ کیا، جو 2012 کے بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا۔
انہوں نے چیف ایڈوائزر محمد یونس اور خارجہ امور کے مشیر توحید حسین سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت کی، بنگلہ دیش کا یہ دورہ دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھی عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، 30 مئی سے 9 جون 2025 تک بلاول بھٹو زرداری نے امریکہ میں اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے وفد کے ہمراہ بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا اور پاکستان کے موقف کو مضبوط انداز میں پیش کیا، انہوں نے 10 جون کو لندن میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ اور برسلز میں یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات میں پاکستان کے سفارتی نقطہ نظر پر بریفنگ دی۔
یہ سفارتی دورے پاکستان کے مؤقف کو یورپی سطح پر اجاگر کرنے اور عالمی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے، جون میں پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے منسلک دو اہم کمیٹیوں میں کلیدی عہدے بھی دیئے گئے۔
پاکستان کی بہترین حکومتی اور عسکری ڈپلومیسی کے باعث بھارت کی باکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔
پاکستان نے اپنی عسکری قوت اور سفارتی حکمتِ عملی کے امتزاج سے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، امن دوست اور علاقائی استحکام لانے والا ملک ہے، پاکستان اپنی سلامتی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
حکومت اور عسکری قیادت کی مربوط حکمتِ عملی نے پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مضبوط بنایا اور دنیا کو پاکستان کی قربانیوں، بصیرت اور وژن کو تسلیم کرنے پر راغب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان اور پاکستان کے پاکستان کا کہ پاکستان نے پاکستان پاکستان کو پاکستان کی سے ملاقات دورہ کیا کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب