ایس سی او سربراہ اجلاس: چین کے صدر شی جن پنگ کا رکن ممالک پر تعاون بڑھانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
تیانجن ( نیوزڈیسک) چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) باہمی اعتماد اور مشترکہ مفاد کے اصولوں کے تحت آگے بڑھ رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
چینی شہر تیانجن میں جاری ایس سی او سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ رکن ممالک کے درمیان تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی شراکت دار ممالک کے ساتھ تجارت 2.
چینی صدر نے ایس سی او ترقیاتی بینک کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ خوشحال مستقبل کے لیے تجارتی اور مواصلاتی روابط بڑھانا ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔
واضح رہے کہ ایس سی او کا یہ دو روزہ اجلاس بیس ممالک کے سربراہان کی شرکت سے جاری ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف بھی شریک ہیں، جو پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے اور خطے میں تعاون و استحکام کے فروغ سے متعلق تجاویز دیں گے۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رکن ممالک ایس سی او ممالک کے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔