مغرب کی یوکرین اور غزہ پر دہری پالیسی عالمی ساکھ کے لیے خطرہ ہے: ہسپانوی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
ہسپانوی وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ یوکرین اور غزہ کے معاملے پر مغرب کے دہرے معیار اس کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ دیگر یورپی ممالک بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے سلسلے میں اسپین کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی وزیراعظم کا نیتن یاہو پر غزہ کے انسانی بحران کا الزام اور شدید تنقید
ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین کے اندر ممالک اس بات پر منقسم ہیں کہ اسرائیل پر کس طرح اثر انداز ہونا ہے۔ ’میرے نزدیک یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے، اور اگر ہم یوکرین جیسے دوسرے بحرانوں میں اپنی ساکھ قائم رکھنا چاہتے ہیں تو اس دہری پالیسی کے ساتھ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے۔‘
انہوں نے کہاکہ دنیا یورپی یونین اور مغربی معاشرے کو دیکھ رہی ہے اور یہ سوال کررہی ہے کہ جب معاملہ یوکرین کا ہوتا ہے اور جب بات غزہ کی آتی ہے تو آپ دہرا معیار کیوں اپناتے ہیں؟
ہسپانوی وزیراعظم نے یورپ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے، جن میں مالیاتی اقدامات بھی شامل ہوں۔
انہوں نے کہاکہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلاشبہ اکیسویں صدی کے بین الاقوامی تعلقات کے سب سے تاریک ابواب میں سے ایک ہے۔ اس حوالے سے اسپین نے یورپی یونین اور عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ: پاکستان کا غزہ میں انسانی بحران پر شدید ردعمل، فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کا مطالبہ
ان کے مطابق یورپی یونین کے اندر ہم نے اب تک یہی مؤقف اپنایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ موجود اسٹریٹجک شراکت داری کو معطل کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خبردار کردیا دہرا معیار عالمی طاقتیں غزہ غزہ بحران ہسپانوی وزیراعظم وی نیوز یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خبردار کردیا دہرا معیار عالمی طاقتیں ہسپانوی وزیراعظم وی نیوز یوکرین ہسپانوی وزیراعظم یورپی یونین
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔