یہ کہنا غلط ہے کہ نواز شریف اپنے نظریات سے الگ ہوگئے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نظریات کو عملی شکل میں لانے کا وقت آگے پیچھے ہو سکتا ہے، یہ کہنا غلط ہے کہ نواز شریف اپنے نظریات سے الگ ہوگئے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مری کی میٹنگ میں تسلسل کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے، نواز شریف اس نظام سے بالکل مطمئن ہیں اور اس نظام کے تسلسل کی وجہ شہباز شریف کی شخصیت ہے۔
آئی ایم ایف وفد کس سے پوچھ کر چیف جسٹس سے ملا؟ نور عالم کا سوال، خواجہ آصف کا جوابقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ بتایا جائے کہ آئی ایم ایف کا وفد کس حیثیت میں، کس سے پوچھ کر چیف جسٹس سے ملا؟
خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں تمام اشاریے درست سمت میں تھے، نواز شریف پانچ سال وزیراعظم رہتے تو آج ملک میں صورتحال مختلف ہوتی، ہماری توجہ پاکستان کی معیشت، استحکام اور خارجہ پالیسی ہے، ہماری سمت کا تعین ہوچکا ہے ہمیں اس طرف بڑھنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ شام تک شہباز شریف سے رابطہ تھا، ان کو میری بات پر اعتراض کرنے دیں، میری بات سے وزیراعظم شہباز شریف کو کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز میری بیٹی ہیں، وہ ہماری جماعت کا مستقبل ہیں، مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب بہتر کام کر رہی ہیں، نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز کی کامیابی کے لیے دعاگو بھی ہوں، ان کی کامیابی کے لیے میں اپنا حصہ بھی ڈال رہا ہوں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ نجانے کہاں کہاں سے تار آجاتے ہیں، یہ ساری ان لوگوں کی ذہنی اختراع ہے، نواز شریف کی مرضی سے یہ تمام اقدامات مضبوط ہوئے اور مزید ہوں گے، یہ آج کل جو سینہ گزٹ چل رہا ہے یہ باتیں بیٹھ کر شاید بنائی جاتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہباز شریف خواجہ ا صف نواز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔