شہباز شریف کی چینی وزیراعظم سے ملاقات؛ مشترکہ منصوبوں پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد چینی وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کے اعزاز میں ایک پروقار ظہرانہ بھی دیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت پر چینی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان 2 ستمبر 2025 کو ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے کی روشنی میں پاک چین ہمہ موسمی تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر مشترکہ ایکشن پلان (2024-2029) پر دستخط کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج چین کی بھرپور حمایت کے باعث ممکن ہو سکے ہیں۔ انہوں نے جلد ہی چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز متعارف کرانے کے پاکستان کے ارادے سے بھی آگاہ کیا۔
اقتصادی تعاون کے حوالے سے وزیراعظم نے گزشتہ دہائی میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور اس کے اہم منصوبے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی شاندار شراکت کو اجاگر کیا اور قراقرم ہائی وے، ریلوے لائن-1 کی بحالی اور گوادر پورٹ کی مکمل آپریشنلائزیشن کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے سی پیک کے فیز 2 کو اپ گریڈ کرنے اور اس کے تحت 5 نئے کوریڈورز پر مشترکہ کام کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر بیجنگ میں ہونے والی بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کا ذکر کیا، جس میں 300 سے زائد پاکستانی اور 500 چینی کمپنیاں شریک ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زراعت، کان کنی، معدنیات، ٹیکسٹائل، صنعتی شعبے اور آئی ٹی کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی تعاون کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے عالمی گورننس انیشیٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو سمیت کثیرالجہتی اقدامات کی پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ سال پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ شایان شان طریقے سے منائی جائے گی۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان سی پیک فیز 2، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، میڈیا اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان شہباز شریف
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین