اسلام ٹائمز: سعودیہ بقیہ خلیجی ریاستوں کی طرح اسرائیل کو حقیقی خطرہ قرار دے رہا ہے، یہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں تیز رفتار اور غیر متوقع تبدیلیوں کا ایک کثیر جہتی ردعمل ہے۔ قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد امریکی سلامتی کے وعدوں پر عدم اعتماد نے خلیجی ریاستوں کو متبادل اتحاد تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ نہ صرف واشنگٹن پر انحصار کا متبادل ہے، بلکہ اسرائیل کو ایک مضبوط پیغام بھی دیتا ہے کہ سعودی عرب ہر ممکن طریقے سے اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ یہ نتائج عرب اسلامی اتحاد کو مضبوط کرنے سے لے کر خلیج فارس میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے تک علاقائی مساوات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد چند روز کے اندر ہی سعودی پاکستان دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا ردعمل ہے۔ 17 ستمبر 2025 کو سعودی عرب اور پاکستان نے ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی، بلکہ یہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی پیش رفت کی علامت اشارہ ہے۔ 9 ستمبر 2025 کو قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد علاقائی کشیدگی اور فیصلہ کن امریکی ردعمل کے فقدان کے تناظر میں اس معاہدے کو خلیجی ریاستوں کے امریکی سلامتی کے وعدوں پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے ردعمل سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس معاہدے نے اسرائیل کو ایک قطعی پیغام بھیجا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

 تاریخی تناظر اور معاہدے کے محرکات:
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں سے فوجی، اقتصادی اور مذہبی تعاون پر مبنی تعلقات ہیں۔ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کا حامل واحد اسلامی ملک ہے، اپنے ایٹمی پروگرام کے آغاز سے سعودی، ایرانی اور لیبی مالی امداد سے مستفید ہوا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دستخط کیے گئے نئے معاہدے میں کسی بھی جارحیت کے خلاف باہمی دفاع کے مشترکہ عزم کی وضاحت کی گئی ہے۔ پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے سرکاری بیان میں اس معاہدے کو باہمی ڈیٹرنس اور علاقائی امن کو مضبوط کرنے کے لیے ایک قدم قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کا وقت، قطر پر اسرائیل کے حملے کے صرف ایک ہفتے بعد، واضح طور پر کچھ فوری محرکات کی نشاندہی کرتا ہے۔

جیسا کہ ایک سینئر سعودی اہلکار نے رائٹرز گفتگو میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ برسوں کے مذاکرات کا نتیجہ تھا اور یہ کسی خاص واقعہ کا ردعمل نہیں تھا۔ تاہم، قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال اور اسرائیلی حملے کے بعد امریکہ کیطرف سے فوری اور واضح ردعمل نے اآنے کی وجہ سے، دنیا کے تجزیہ کاروں کو یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کیا ہے کہ یہ معاہدہ حالیہ پیش رفت کا ایک تزویراتی ردعمل ہے۔ اس معاہدے میں "تمام فوجی اثاثے" استعمال کرنا شامل ہے، یہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری چھتری فراہم کرنے کے امکان کو ظاہر کرتا ہے، لیکن بظاہر سعودی حکام نے اسے محض ایک "جامع دفاعی معاہدہ" قرار دیا ہے۔

 امریکہ پر اعتماد اور انحصار کا ناکافی ہونا:
9 ستمبر 2025 کو قطر پر اسرائیل کا حملہ، خلیجی ریاستوں کی علاقائی سلامتی کے تصورات اور تفہیم میں تبدیلی کا سبب بنا ہے۔ دوحہ میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنا کر، جو غزہ میں جنگ بندی پر بات چیت کر رہے تھے، اسرائیل نے نہ صرف قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، بلکہ قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششوں پر علاقائی اور عالمی اعتماد کو مجروح کرنے کیساتھ ساتھ قطر کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچایا۔ اس حملے میں ایک قطری سیکیورٹی افسر سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، عرب ممالک کی جانب سے وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی۔ قطر نے اسے "ریاستی دہشت گردی" قرار دیا اور سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا، لیکن امریکہ نے صرف تشویش کا اظہار کیا۔ حالانکہ امریکہ نہ صرف قطر کا اہم اتحادی ہے بلکہ اس کے پاس دوحہ کا وسیع و عریض العدید فوجی اڈہ بھی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی واضح مذمت کیے بغیر اس حملے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے حماس کو ختم کرنے کے ہدف پر زور دیا۔ قطر کو اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچنے اور العدید ایئربیس کو استعمال کرنے والے امریکہ کا یہ کمزور موقف خلیجی ریاستوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ قطر کو واشنگٹن کی مضبوط حمایت کی توقع تھی اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ اسرائیل کے خلاف امریکی تحفظ کی ضمانتیں غیر موثر تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قیاس کو چکنا چور ہو گیا ہے کہ خلیجی ریاستیں سلامتی کے حتمی ضامن کے طور پر امریکہ پر انحصار کرتی تھیں۔ پلیٹ فارم X پر متعدد پوسیں اس عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہیں جیسا کہ صارفین کہہ رہے ہیں کہ "قطر پر اسرائیل کے حملے اور امریکہ کی خاموشی نے خلیج کو نئے اتحادوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔" یہ عدم اعتماد سعودیہ پاکستان معاہدے کا ایک اہم محرک تھا، کیونکہ اس صورتحال میں ریاض واشنگٹن پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے متبادل تلاش کر رہا ہے۔

 قطر پر اسرائیلی حملے کے اثرات:
قطر پر اسرائیلی حملے کے بہت دور رس نتائج نکلے، جو قطر اور امریکہ کے باہمی تعلقات سے آگے نکل چکے ہیں۔
1۔ سب سے پہلے، اس حملے نے غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کو بری طرح متاثر کیا، جس میں قطر ثالثی کر رہا تھا۔ اگرچہ قطر نے کہا ہے کہ وہ اپنا ثالثی کا کردار جاری رکھے گا، لیکن اس عمل میں اعتماد ختم ہو گیا۔
2۔ دوسرا، اس واقعے نے عرب اتحاد کو مضبوط کیا۔ 15 ستمبر کو عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں قطر کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا اور اسرائیل کو مزید حملوں کی صورت میں ردعمل کی وارننگ بھی دی گئی۔
3۔ تیسرا، اس حملے نے خلیجی ریاستوں کے لئے اسرائیل کو سلامتی کے خطرے کے طور پر واضح کر دیا ہے۔ ترجیحات میں اس تبدیلی نے خلیجی ریاستوں کو اپنی سیکورٹی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔ 
4۔ اقتصادی نقطہ نظر سے، امریکہ پر عدم اعتماد توانائی کی عالمی منڈیوں کے استحکام کو متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ خلیج فارس تیل اور گیس کا ایک بڑا منبع اور ذریعہ ہے۔
5۔ واشنگٹن پر اعتماد میں کمی بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کم سرمایہ کاری اور چین اور ایران جیسی طاقتوں کے ساتھ تعاون میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

 اسرائیل کے لیے سخت پیغام:
سعودیہ پاکستان معاہدے کا ایک اہم مقصد اسرائیل کو ڈیٹرنس کا پیغام دینا تھا۔ قطر پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل تیزی سے جارحانہ رجحان کیوجہ سے امریکہ کے قریبی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ اسی وجہ سے ریاض میں گہری تشویش پیدا ہوئی۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی سفارتی تعلقات کو بھی مضبوط کیا تھا۔ پاکستان کے ساتھ جوہری صلاحیتوں کے استعمال کے حامل معاہدے پر دستخط تل ابیب کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ سعودی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، یہ جواب جوہری حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ 

نتیجہ:
سعودیہ بقیہ خلیجی ریاستون کی طرح اسرائیل کو حقیقی خطرہ قرار دے رہا ہے، یہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں تیز رفتار اور غیر متوقع تبدیلیوں کا ایک کثیر جہتی ردعمل ہے۔ قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد امریکی سلامتی کے وعدوں پر عدم اعتماد نے خلیجی ریاستوں کو متبادل اتحاد تلاش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ نہ صرف واشنگٹن پر انحصار کا متبادل ہے، بلکہ اسرائیل کو ایک مضبوط پیغام بھی دیتا ہے کہ سعودی عرب ہر ممکن طریقے سے اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ یہ نتائج عرب اسلامی اتحاد کو مضبوط کرنے سے لے کر خلیج فارس میں امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے تک علاقائی مساوات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قطر پر اسرائیلی حملے کے قطر پر اسرائیل کے حملے اسرائیلی حملے کے بعد کرنے پر مجبور کیا نے خلیجی ریاستوں کے لیے تیار ہے دفاعی معاہدہ کہ سعودی عرب کہ اسرائیل یہ پاکستان واشنگٹن پر اسرائیل کو پاکستان کے کی جانب سے اس معاہدے سلامتی کے یہ معاہدہ ردعمل ہے کو مضبوط کے ساتھ کرنے کے نے خلیج اس حملے رہا ہے قطر کی کا ایک

پڑھیں:

حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے

حج 2026 کی ادائیگی کے بعد پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سعودی ائیرلائن کی پرواز ایس وی 5724 کے ذریعے 370 حجاج کرام آج اسلام آباد پہنچ گئے۔

مزید پڑھیں: سعودی وزارت حج و عمرہ کی حجاج کرام کے لیے مثالی انتظامات کرنے پر پاکستانی حج مشن کو خراج تحسین

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد ہوائی اڈے پر حجاج کرام کا استقبال کیا اور انہیں فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امسال قریباً ایک لاکھ 80 ہزار پاکستانیوں نے حج کی سعادت حاصل کی، جن میں ایک لاکھ 20 ہزار عازمین سرکاری حج اسکیم کے تحت سعودی عرب گئے۔

پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع۔ سعودی ائیرلائن کے ذریعے 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد ہوائی اڈے پر حجاج کا استقبال کیا اور انہیں فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔@iamabidmalik @AmirSaeedAbbasi @KulAalam pic.twitter.com/zBqJGjKIEa

— Media Talk (@mediatalk922) June 1, 2026

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حجاج کرام نے حج 2026 کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارتِ مذہبی امور نے عازمین حج کو ہر ممکن سہولت فراہم کی۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب، حجاج کرام میں قرآن پاک کے نسخوں کی تقسیم

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وفاقی وزیر مذہبی امور اور ان کی ٹیم کو حج کے بہترین انتظامات پر مبارکباد بھی پیش کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد آئیرپورٹ حجاج کرام طارق فضل چوہدری وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے