خیبر پختونخوا: 9 مئی کے سزا یافتہ کون کون سے رہنما پشاور میں روپوش ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہاؤس اور سرکاری مہمان خانوں میں کچھ عرصے سے مہمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو پنجاب اور دیگر صوبوں میں مختلف کیسز میں گرفتاری سے بچنے کے لیے خیبر پختونخوا کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سمیت کن 12 اراکین کی بنیادی رکنیت ختم کر دی؟
سنہ2024 کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تیسری بار حکومت بننے کے بعد سے پارٹی رہنما 9 مئی اور دیگر سیاسی نوعیت کے کیسز میں گرفتاری اور پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے مہمان بنے ہوئے ہیں اور کچھ رہنما مستقل طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں بھی قیام پذیر ہیں۔
تاہم گزشتہ 2 ماہ کے دوران 9 مئی کے کیسز میں فیصلے سنائے جانے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں ملنے کے بعد مہمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے انسداد دہشتگردی عدالت فیصل آباد اور لاہور نے مختلف کیسز میں شبلی فراز، عمر ایوب، حمید رضا، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو سزائیں سنائی تھیں جبکہ الیکشن کمیشن نے انہی سزاؤں کی بنا پر پی ٹی آئی کو نااہل قرار دے کر نشستیں خالی ہونے کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔
پنجاب کے رہنماؤں کی پشاور ہائیکورٹ میں درخواستیں کیوں مسترد ہوئیں؟پنجاب میں 9 مئی کیسز میں سزا کے خلاف روپوش رہنما پشاور میں منظر عام پر آئے اور فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔
مزید پڑھیے: 9 مئی کو رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری، پی ٹی آئی کے 17 قائدین کو 2 دفعات کے تحت 10، 10 سال کی سزا
پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکین عمر ایوب، شبلی فراز، عبدالطیف کی درخواستوں پر الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روک دیا جبکہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین کو متعلقہ ہائیکورٹس سے رجوع کرنے کی ہدایت کرکے درخواستیں واپس کر دیں۔
سماعت کے دوران سزا یافتہ افراد رائے حیدر علی، صاحبزادہ حامد رضا، رائے حسن خان، رائے مرتضیٰ اور رائے انصار، زرتاج گل عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ عدالت نے ان کی نااہلی کے خلاف دائر درخواستوں کو واپس کر دیا اور واضح کیا کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور درخواست گزاروں کو لاہور یا اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
15 صفحات پر مشتمل فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں کو فیصل آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 31 جولائی کو سزا سنائی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 5 اگست کو انہیں نااہل قرار دیا۔ چونکہ یہ کارروائی پنجاب کی عدالت اور اسلام آباد میں موجود الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہوئی اس لیے پشاور ہائیکورٹ اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
سزا یافتہ رہنماؤں کا پشاور میں قیام9 مئی توڑ پھوڑ کیسز میں سزا یافتہ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے رہنما پنجاب، اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں گرفتاری سے بچنے کے لیے پنجاب جانے سے گریزاں ہیں اور متعلقہ ہائیکورٹس میں درخواستیں تک نہیں دے سکے۔
گرفتاری سے بچنے کے لیے ایسے رہنماؤں نے خیبر پختونخوا میں مبینہ طور پر روپوشی اختیار کی ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وی نیوز کو بتایا کہ حکومت بننے کے بعد سے ہی دیگر صوبوں کے رہنما کے پی میں قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے باقاعدہ طور پر کابینہ ممبران اور اراکین صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی ہیں کہ ان کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’جب بھی کوئی ایسا مہمان آتا ہے تو کسی ایک وزیر یا رکن کی ذمہ داری لگا دی جاتی ہے کہ ان کے رہائش اور دیگر انتظامات کرے‘۔
رہنما نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید بڑے عرصے سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہی قیام پذیر ہیں اور وہاں ان کو کمرے اور دفتر بھی دیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی ہدایت پر استعفے: پی ٹی آئی پارلیمنٹ کی کتنی کمیٹیوں سے محروم ہو جائےگی؟
انہوں نے کہا کہ کچھ رہنما گلیات اور ایبٹ آباد میں روپوش ہیں اور انتظامات یا تو حکومت کر رہی ہے یا متعلقہ پارٹی رہنما۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ تو کیسز میں فیصلے سے پہلے سے پہنچے ہوئے تھے کیوں کہ ان کو اندازہ تھا کہ انہیں سزا ہو سکتی ہے۔
رہنما کا کہنا تھا کہ زرتاج گل اور صنم جاوید بھی پشاور میں ہی روپوش ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صنم جاوید ایک خاتون حکومتی عہدیدار کے گھر میں روپوش ہیں اور وزیراعلیٰ کے کہنے پر وہاں مقیم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی جانب سے ہدایت ہے کہ جب تک سزا معطل نہیں ہوتی وہ صوبے سے باہر نہ جائیں۔
سزا یافتہ رہنماؤں کو مبینہ پناہ فراہم کرنے کے حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے وی نیوز نے ترجمان خیبر پختونخوا سے رابطے کی بارہا کوششیں کیں مگر ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔
خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کی محفوظ پناہ گاہتجزیہ کاروں کے مطابق مشکل حالات میں خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کی محفوظ پناہ گاہ ہے جہاں دیگر صوبوں کی پولیس کارروائی نہیں کر سکتی اور حکومت اپنے رہنماؤں کو مکمل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
عارف حیات پشاور کے سینیئر صحافی ہیں اور سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کے دور میں وزیراعلیٰ ہاؤس پارٹی کا مرکز بنا ہوا ہے اور کئی رہنما مستقل طور پر قیام پذیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’خواہ احتجاج کے لیے لوگ نکالنے ہوں یا رہنماؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنی ہوں پی ٹی آئی کا مکمل انحصار علی امین گنڈاپور اور صوبائی حکومت پر ہے۔
عارف حیات نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق تمام سزا یافتہ لوگ جو باہر ہیں وہ سب کے پی میں روپوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیے کے پی محفوظ ہے اور یہاں مقتدر حلقے بھی کارروائی نہیں کر سکتے جبکہ پنجاب پولیس صرف شور مچا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجا کا پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل کے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی وفاقی حکومت کے خاتمے کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور آئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ بھی جیل سے رہائی کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس میں رہ رہی تھیں لیکن مبینہ طور پر وزیراعلیٰ سے اختلافات کے بعد واپس گئیں اور بعد میں دوبارہ گرفتار ہو گئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کے سزا یافتہ رہنما پی ٹی آئی مفرور رہنما کے پی پی ٹی آئی کی پناہ گاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی خیبرپختونخوا پی ٹی ا ئی کے سزا یافتہ رہنما پی ٹی ا ئی مفرور رہنما کے پی پی ٹی ا ئی کی پناہ گاہ پشاور ہائیکورٹ انہوں نے کہا کہ سے بچنے کے لیے خیبر پختونخوا میں روپوش ہیں الیکشن کمیشن نے بتایا کہ رہنماؤں کو دیگر صوبوں پشاور میں پی ٹی ا ئی سزا یافتہ پی ٹی آئی اور دیگر کیسز میں ہیں اور کے بعد
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔