خلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی سے فضائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں: سربراہ پاک فضائیہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
خلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی سے فضائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں: سربراہ پاک فضائیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد ( آئی پی ایس) سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے پاک فضائیہ خلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئر کے فروغ اور سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم رہےگی۔
ملک بھر میں 1965 کی جنگ میں 7ستمبر کو لڑے جانے والے فضائی معرکے کی یاد میں آج یوم فضائیہ منایا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر کی تم ائیر بیسز پر یوم شہدا منایا گیا جس میں 1965 اور 1971 کے شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
ائیر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں یومِ شہداء کی مرکزی تقریب ہوئی جس میں ائیر چیف ظہیر احمد بابر سدھو نے پاک فضائیہ کی قربانی، جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کی شاندار روایت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے یادگار شہداء پر پھول رکھے اور شہداء کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔
ائیر چیف نے کہا کہ یومِ شہداء ہماری مسلح افواج کی غیر معمولی بہادری،بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیت اور بےلوث قربانی کے جذبےکی یاد دلاتا ہے۔
ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا معرکہ حق کی کامیابیاں ثابت کرتی ہیں پاک فضائیہ فضائی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، پاک فضائیہ فضائی سرحدوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
سربراہ پاک فضائیہ کا کہنا تھا ہم اپنے ہیروز کی عظیم قربانیوں کے ہمیشہ مقروض رہیں گے، ہمارے ہیروز کا ایثار آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے، ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاور کیں۔
ائیر چیف ظہیر احمد بابر سدھو نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی جائز اور مقامی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا پاک فضائیہ خلائی صلاحیتوں، الیکٹرانک وارفیئرکےفروغ سے ملکی خودمختاری کےتحفظ کے لیے پرعزم رہےگی۔
ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا تھا پاک فضائیہ سائبر ٹیکنالوجیز اور مقامی دفاعی پیداوارکے فروغ سے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم رہےگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلاہور میں فلڈ ریلیف کیمپ میں خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش رواں سال کا دوسرا مکمل چاند گرہن آج رات ہوگا یوم فضائیہ 7 ستمبر ، جب پاکستان کے شاہینوں نے دشمن کی فضائی قوت کو ناکام بنایا نبی کریم ﷺ کی ولادت کے 1500 سال مکمل ہونے پر جشن، فضائیں درود و سلام سے معطر بھارتی آبی جارحیت جاری؛ دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، چناب اور راوی کی بھی سطح بلند سیلاب متاثرین کیلئے امریکا کی جانب سے امدادی سامان پاکستان پہنچ گیا نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کا یومِ ولادت مذہبی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ظہیر احمد بابر سدھو سربراہ پاک فضائیہ فضائی سرحدوں کے خلائی صلاحیتوں ائیر چیف کا کہنا کے تحفظ کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔