تحریک انصاف نے وزیر اعلیٰ گگلت بلتستان سمیت12 اراکین اسمبلی کی پارٹی رکنیت ختم کردی
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سمیت 12 اراکین اسمبلی کی بنیادی رکنیت ختم کر دی۔ منحرف اراکین گلگت بلتستان اسمبلی کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔
ایڈیشنل سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان سب اراکین پر پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی، فارورڈ بلاک بنانے اور پارٹی کے خلاف ووٹنگ کے الزامات ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ جی بی گلبر خان، شمس الحق لون، راجہ اعظم، عبدالحمید، امجد زیدی، حاجی شاہ بیگ، ثریا زمان، راجہ ناصر مقپون کی بنیادی رکنیت ختم کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق رکن گلگت بلتستان اسمبلی مشتاق احمد، دلشاد بانو اور فضل رحیم کی بھی بنیادی رکنیت ختم کی گئی ہے جبکہ سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان کے اراکین کو پارٹی کا نام، جھنڈا اور عہدہ استعمال کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان رکنیت ختم
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔