ہم مغربی کنارے کو اسرئیل میں ضم کرنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے: شاہ اردن
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اردن کے شاہ عبداللّٰہ نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے اور فلسطینیوں کو بےدخل کرنے کے منصوبوں کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق شاہ عبداللّٰہ نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران اسرائیلی عزائم پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف مغربی کنارے بلکہ غزہ سے فلسطینیوں کو بےدخل کرنے کا منصوبہ بھی ناقابل قبول ہے۔ شاہ عبداللّٰہ نے واضح کیا کہ اردن فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی حمایت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات پہلے ہی اسرائیلی قبضے کو اپنی ریڈ لائن قرار دے چکا ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔