جلال پور(نیوز ڈیسک)بھارت کے مزید پانی چھوڑنے پر پنجاب میں صورتحال گھمبیر ہوگئیں، دریائے چناب میں پانی کے تیز بہاؤ سے جلال پور پیروالا میں بند ٹوٹ گیا، جس سے درجنوں بستیاں زیرآب آگئی، لوگ جان بچانے کے لیے چھتوں پر چڑھ گئے، ہیڈ تریموں سے آنے والا سیلاب مظفرگڑھ کی حدود رنگ پور میں داخل ہوگیا، سیلاب کے باعث شہریوں کے انخلا کی کوششیں تیز کردی گئیں جب کہ مساجد سے اعلانات کے بعد ہر طرف افراتفری مچ گئی جب کہ پانی کی سطح مسلسل بڑھنے کی وجہ سے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

دریائے چناب اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جلال پور پیروالا میں خان بیلہ کے قریب مقامی بند ٹوٹنے کے بعد شدید سیلاب کی صورت حال نے تباہی مچا دی ہے۔

دریا چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنے سے جلالپور پیروالا سمیت ملحقہ علاقوں میں 60 سے زائد بستیاں زیر آب آگئیں جب کہ تاہم شہریوں کے انخلا کی کوششیں تیز کردی گئیں جس کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور مساجد سے اعلانات کے بعد ہر طرف افراتفری مچ گئی۔

جلالپور پیر والا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے شہریوں کا انخلاء جاری ہے، پاک آرمی، پولیس اور سول انتظامیہ ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر ڈی جی پی ڈی ایم اے کی نگرانی میں ہیلی کاپٹرز سمیت تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں pic.

twitter.com/2iFTlYCFNP

— PDMA Punjab Official (@PdmapunjabO) September 8, 2025


پانی دیگر حفاظتی بندوں کی آخری حد کو چھونے لگا جب کہ ہیڈ محمد والا کے متاثرہ علاقوں میں گھروں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

پانی گھروں میں داخل ہونے کے باعث شہریوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں کی چھتوں پر پناہ لے لی جب کہ سیلابی ریلا آج ملتان پہنچے گا۔

حکام کے مطابق، پانی کی سطح مسلسل بڑھنے کی وجہ سے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور شہر کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ملتان میں جلالپور پیر والا شہر کو خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔دریائے چناب کے پانی سے شہر کے قریب بنائے جانے والا بند کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے، اس لیے شہری فوری طور پر مکانات خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ملتان کیپٹل پولیس آفیسر
مساجد میں اعلانات کروائے گئے۔1/2 pic.twitter.com/H76mAnuTRO

— S-rehman (@rehman46043768) September 7, 2025


پنجاب کے راوی، ستلج اور چناب کے آبی ریلوں سے ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ تریموں پر بہاؤ 5 لاکھ 43 ہزار کیو سک ہے۔

دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جب کہ ہیڈ بلوکی پر بہاؤ ایک لاکھ 39 ہزار اور ہیڈ سدھنائی پر ایک لاکھ 23 ہزار کیوسک تک جا پہنچا۔

جھنگ میں دریائے چناب کا دوسرا ریلا داخل ہونے سے 300 سے زیادہ دیہات متاثر اور تقریباً 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

ادھر بہاولپور میں دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب داخل ہوچکا ہے۔ پانی ناردرن بائی پاس کے قریب پہنچ کر بستیوں میں داخل ہوگیا۔

دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 19 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر اونچے اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔

ہیڈ تریموں سے آنے والا سیلابی ریلا مظفرگڑھ کی حدود رنگ پور میں داخل ہوگیا ، پانی کی سطح میں اضافہ لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی کرکے ریلیف کیمپوں میں منتقل ہوگئے۔

شجاع آباد میں دریا چناب میں سیلابی ریلا گزرتے ہوئے آج ساتواں روز ہے، سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد جو گھروں میں محصور تھی انہیں کافی حد تک ریسکیو کرلیا گیا ہے۔

ہیڈ قادر آباد کو بچانے کے لیے باہو مانگا کے قریب شگاف ڈالا گیا تھا، جس کے باعث منڈی بہا الدین سے حافظ آباد اور گوجرانوالہ جانے والے راستے متاثر ہوئے، وہاں اس وقت مرمتی کام جاری ہے۔

دیپالپور کے دریائے ستلج میں بھارتی آبی دہشت گردی اور آبی جارحیت کی انتہا سے سینکڑوں ایکڑ زیر آب کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔

دریائے ستلج میں اٹاری کے مقام پر بھارتی آبی جارحیت سے 27 سالا سیلابی ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے جب کہ دیپالپور میں ضلعی انتظامیہ کا اٹاری کے مقام پر پر ہائی الرٹ جاری ہے۔

ادھر پنجاب میں تباہی پھیلانے کے بعد سیلابی ریلے سندھ کی جانب بڑھ گئے ہیں۔ گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔ راجن پور میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے تیزی سے زیر آب آرہے ہیں۔

بھارت نے پاکستان کو سیلابی صورت حال کی معلومات فراہم کردیں
بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو سیلابی صورت حال کے بارے میں معلومات فراہم کردیں ہیں۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے اونچے درجے کے سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ دریائے ستلج پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا، دریائے ستلج میں ہریکے، فیروز پور ڈاؤن سٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم کے مطابق سول انتظامیہ پاک فوج اور دیگر متعلقہ محکمے الرٹ ہیں، شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار
پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، ہیڈ تریموں پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کی سطح 5 لاکھ 47 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 19 ہزار اور سلیمانکی کے مقام پر بہاؤ ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 84 ہزار، خانکی ہیڈ ورکس ایک لاکھ 47 ہزار اور قادرآباد پر ایک لاکھ 47 ہزار کیوسک ہے۔

دریائے ستلج، ہارکے اور فیروزپور میں ہائی فلڈ لیول — ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات اور ریسکیو پلانز پر فوری عملدرآمد کی ہدایت۔#PDMAPunjab #FloodAlert #Rescue #DisasterManagement #Punjab #StaySafe #FloodRelief pic.twitter.com/VZK0dsRhSA

— PDMA Punjab Official (@PdmapunjabO) September 8, 2025


اسی طرح دریائے راوی جسڑ پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 45 ہزار، شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 90 ہزار کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس پر بہاؤ ایک لاکھ 39 ہزار جبکہ ہیڈ سدھنائی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 32 ہزار تک پہنچ گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی سیلاب کی صورتحال کی مانیٹرنگ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے رات گئے تک سیلاب کی صورتحال کی مانیٹرنگ جاری رکھی اور ملتان سمیت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو آپریشن کی براہ راست نگرانی کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے جلالپور پیر والا میں سیلاب متاثرین کے انخلاء کے آپریشن کی ورچوئل نگرانی کی اور سیلابی صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لیتی رہیں۔

جلال پور پیر والا کے عوام سے التماس ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور جب تک حکومت کی جانب سے گرین سگنل نہیں مل جاتا، سیلاب زدہ علاقوں میں واپس مت جائیں۔ یہ آپ کے جان اور مال کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ شکریہ۔ pic.twitter.com/cX1qnZdUOB

— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 7, 2025


مریم نواز کا کہنا تھا کہ جلالپور پیروالا میں پی ڈی ایم اے،ریسکیو،ضلعی انتظامیہ موجود ہیں، اب تک تقریباً 2000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ سیلاب کے فوری ردعمل کے لیے تھرمل امیجنگ ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے اور آپریشنز کو باریک بینی سے مانیٹر کیا جا سکے۔

سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی بحالی پر پاورڈویژن کی رپورٹ
سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی بحالی پر پاورڈویژن نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فیسکو کے 27 گرڈ اور 80 فیڈرز متاثر ہوئے، جن میں سے 17 مکمل اور 59 عارضی طور پر بحال کردیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گیپکو کے 11 گرڈز، 103 متاثرہ فیڈرز سے 89 مکمل اور 14 جزوی بحال کیے گئے ہیں، لیسکو میں 67 متاثرہ فیڈرز میں سے 57 مکمل اور 10 جزوی طورپر بحال کر دیے گئے۔

اسی طرح میپکو کے 153 متاثرہ فیڈرز میں سے صرف 4 مکمل اور 149 جزوی بحال ہوئے۔ پیسکو کے 12 گرڈز اور 91 فیڈرز متاثر ہوئے۔

پاورڈویژن کے مطابق پیسکو کے 86 فیڈرز مکمل اور 5 جزوی بحال ہوئے، شمالی وزیرستان اور خیبر کے 18 فیڈرز متاثر ہوئے، اس میں سے 13 فیڈر مکمل اور 5 جزوی بحال کیے گئے جب کہ مانسہرہ کے 3 متاثرہ فیڈر مکمل بحال کر دیے گئے ہیں۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: متاثرہ علاقوں میں دریائے ستلج میں پور پیروالا میں کے مقام پر پانی بہاؤ ایک لاکھ جلال پور پیر پور پیر والا پانی کا بہاؤ پی ڈی ایم اے دریائے چناب جلالپور پیر پانی کی سطح ہیڈ تریموں ہزار کیوسک کی صورتحال متاثر ہوئے جزوی بحال مکمل اور کے مطابق والا میں پنجاب کے کے قریب جاری ہے گئے ہیں پر بہاؤ پور میں گیا ہے ہے اور کے لیے کہ ہیڈ کے بعد

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب