انڈونیشیا میں قرآن خوانی کی تقریب کے دوران عمارت گر گئی، 3 جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
جکارتہ: انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں ایک کمیونٹی ہال کی عمارت گرنے سے کم از کم 3 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
یہ واقعہ مغربی جاوا کے ضلع بوگور میں اس وقت پیش آیا جب تقریباً 100 افراد، جن میں زیادہ تر خواتین شامل تھیں، میلاد النبیؐ کے موقع پر قرآن خوانی کے لیے جمع تھے۔
مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے افسر محمد آدم حمدانی کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 84 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔
حکام کے مطابق عمارت زیادہ رش کی وجہ سے دباؤ برداشت نہ کر سکی اور اچانک منہدم ہو گئی۔ زخمیوں میں زیادہ تر کو معمولی چوٹیں آئیں اور سب افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔